حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن عِمران بن الحَكَم (1) السُّلَمي، عن ابن عباس قال: قالت قريشٌ للنبيِّ ﷺ: ادعُ لنا ربَّك أن يجعلَ لنا الصَّفا ذهبًا ونؤمنَ بك، قال: "أفتَفعَلون؟ " قالوا: نعم، فدعا، فأتاه جبريلُ ﵇ فقال: "إنَّ الله تعالى يقرأُ عليك السَّلامَ، ويقول: إن شئتَ أصبحَ الصَّفا ذهبًا، فمن كَفَرَ بعدَ ذلك عذّبتُه عذابًا لا أُعذِّبُه أحدًا من العالَمِين، وإن شئتَ فَتَحتُ لهم بابَ التَّوبة والرَّحمة، قال: بل بابَ التَّوبةِ والرَّحمة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7601 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم ﷺ سے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم ایسا کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: اگر آپ چاہیں تو صفا پہاڑ سونا بن جائے گا، لیکن اس کے بعد جس نے کفر کیا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہ دیا ہوگا، اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ توبہ اور رحمت کا دروازہ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: خطی نسخوں اور خود "المسند" میں بھی اسی طرح (عمران بن الحکم) لکھا ہوا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر "تعجیل المنفعہ" 2/ 81 میں فرماتے ہیں کہ درست نام "عمران بن الحارث ابو الحکم" ہے جیسا کہ "صحیح مسلم" وغیرہ میں مروی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ حدیث پیچھے مصنف کے ہاں نمبر (175) پر گزر چکی ہے اور وہاں بھی "عمران بن الحکم" ہی درج ہے۔
(2) إسناده صحيح. سفيان: هو الثَّوري. وهو في "مسند أحمد" 4/ (2166).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
اہم نکتہ: سفیان سے مراد سفیان ثوری ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" 4/ (2166) میں موجود ہے۔