کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سورج طلوع ہونے سے پہلے سامانِ تجارت کا بھاؤ کرنے کی ممانعت
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا الرَّبيع بن حبيب، عن نَوفَل بن عبد الملك، عن أبيه، عن علي، عن النبيِّ ﷺ: أنه نَهَى عن ذبح ذواتِ الدَّرِّ، وعن السَّوْم بالسِّلعة قبل طلوعِ الشَّمس (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7577 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7577 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دودھ دینے والے جانوروں کو ذبح کرنے سے اور سورج نکلنے سے پہلے (منڈی میں) سودا بازی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني حسَّان بن عطيّة، حدثني أبو كَبْشة السَّلُولي، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: قال رسول الله ﷺ: "أربعونَ خَصلةً أعلاهنَّ مِنْحةُ العَنْز، لا يعملُ عبدٌ بخَصْلةٍ منها رجاءَ ثوابها، وتصديقَ موعودِه، إلَّا أدخله اللهُ بها الجنَّةَ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7578 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7578 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس خصلتیں ایسی ہیں جن میں سب سے اعلیٰ درجہ کسی کو دودھ پینے کے لیے بکری کا عطیہ دینا ہے، جو بندہ بھی ثواب کی امید اور اللہ کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرما دے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزّار بمكة على الصَّفَا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أبي المتوكِّل، عن جابر: أنَّ النبيَّ ﷺ وأصحابه مرُّوا بامرأةٍ، فذبحت لهم شاةً، واتَّخَذَتْ لهم طعامًا، فلما رجع قالت: يا رسول الله، إِنَّا اتَّخَذْنا لكم طعامًا، فادخُلوا فكُلوا، فدخلَ النبيُّ ﷺ وأصحابُه، وكانوا لا يَبدَؤون حتى يبدأَ النبيُّ ﷺ، فأخذ النبيُّ ﷺ (1) لُقمةً فلم يستطع أن يُسِيغَها، فقال النبيُّ ﷺ: "هذه شاةٌ ذُبِحَتْ بغير إذن أهلِها"، فقالت المرأةُ (2): يا نبيَّ الله، إنَّا لا نَحتشِمُ من آل مُعاذ ولا يَحتشِمون منَّا، أنْ نأخذَ منهم، ويأخذون منّا (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7579 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7579 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کا گزر ایک خاتون کے پاس سے ہوا، اس نے ان کے لیے ایک بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا، جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ہے، تشریف لائیے اور تناول فرمائیے، چنانچہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ داخل ہوئے، اور صحابہ اس وقت تک (کھانا) شروع نہیں کرتے تھے جب تک نبی کریم ﷺ ابتدا نہ فرمائیں، پھر نبی کریم ﷺ نے ایک لقمہ لیا لیکن آپ اسے حلق سے نیچے نہ اتار سکے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایسی بکری ہے جو اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے“، اس خاتون نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آلِ معاذ سے جھجک محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی وہ ہم سے جھجکتے ہیں کہ ہم ان کی چیز لے لیں یا وہ ہماری لے لیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا محمد ابن مَسْلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمّاد بن سَلَمَة، عن أبي الزُّبير وعمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله: أنهم ذَبَحوا يومَ خيبر الحُمُر والبِغالَ والخيلَ، فنهاهم النبيُّ ﷺ عن الحُمُرِ والبِغال، ولم يَنهَهُم عن الخيل (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7580 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7580 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے خیبر کے دن (ضرورت کے تحت) گھریلو گدھوں، خچروں اور گھوڑوں کو ذبح کیا، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں گدھوں اور خچروں (کے گوشت) سے منع فرما دیا، جبکہ گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔