حدیث نمبر: 7768
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا الرَّبيع بن حبيب، عن نَوفَل بن عبد الملك، عن أبيه، عن علي، عن النبيِّ ﷺ: أنه نَهَى عن ذبح ذواتِ الدَّرِّ، وعن السَّوْم بالسِّلعة قبل طلوعِ الشَّمس (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7577 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دودھ دینے والے جانوروں کو ذبح کرنے سے اور سورج نکلنے سے پہلے (منڈی میں) سودا بازی کرنے سے منع فرمایا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الذبائح / حدیث: 7768
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، الربيع بن حبيب الأكثر على تضعيفه، ونوفل بن عبد الملك قال ابن معين: ليس بشيء، وجهّله أبو حاتم» [ترقيم الرساله 7768] [ترقيم الشركة 7676] [ترقيم العلميه 7577]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف، الربيع بن حبيب الأكثر على تضعيفه، ونوفل بن عبد الملك قال ابن معين: ليس بشيء، وجهّله أبو حاتم.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: الربیع بن حبیب کو اکثر ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ نوفل بن عبد الملک کے بارے میں امام ابن معین فرماتے ہیں کہ وہ 'کچھ بھی نہیں' (لیس بشیء) اور امام ابو حاتم نے انہیں 'مجہول' قرار دیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2206) عن علي بن محمد وسهل بن أبي سهل، عن عبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (حدیث نمبر 2206) میں علی بن محمد اور سہل بن ابی سہل کے طریق سے عبید اللہ بن موسیٰ کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "عن السَّوم بالسلعة قبل طلوع الشمس" قال السيوطي في شرحه على "سنن ابن ماجه": لأنه وقت ذكر الله لا يشتغل فيه بشيء غيره. وقيل: يجوز أن يكون من رعي الإبل لأنها إن رعت قبل طلوع الشمس -والمرعى نَدٍ- أصابها منه الوباء، وربما قتلها.
نوٹ / توضیح: "سورج نکلنے سے پہلے سامان کی خرید و فروخت (سوم) سے ممانعت" کے بارے میں علامہ سیوطی "سنن ابن ماجہ" کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ وقت اللہ کے ذکر کا ہے، اس لیے اس میں کسی اور چیز میں مشغول نہیں ہونا چاہیے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس کا تعلق اونٹوں کو چرانے سے ہے، کیونکہ اگر انہیں سورج نکلنے سے پہلے چرایا جائے جب گھاس پر شبنم (نمی) ہوتی ہے، تو انہیں وبائی بیماری لگ سکتی ہے جو ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7768 سے ماخوذ ہے۔