المستدرك على الصحيحين
كتاب الذبائح— ذبیحہ کے متعلق روایات
النَّهْيُ عَنِ السَّوْمِ بِالسِّلْعَةِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ . باب: سورج طلوع ہونے سے پہلے سامانِ تجارت کا بھاؤ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7769
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني حسَّان بن عطيّة، حدثني أبو كَبْشة السَّلُولي، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: قال رسول الله ﷺ: "أربعونَ خَصلةً أعلاهنَّ مِنْحةُ العَنْز، لا يعملُ عبدٌ بخَصْلةٍ منها رجاءَ ثوابها، وتصديقَ موعودِه، إلَّا أدخله اللهُ بها الجنَّةَ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7578 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس خصلتیں ایسی ہیں جن میں سب سے اعلیٰ درجہ کسی کو دودھ پینے کے لیے بکری کا عطیہ دینا ہے، جو بندہ بھی ثواب کی امید اور اللہ کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرما دے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. بشر بن بكر: هو التنيسي، والأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو. وأخرجه أحمد 11/ (6488) و (6831) و (6853)، والبخاري (2631)، وأبو داود (683)، وابن حبان (5095) من طرق عن الأوزاعي، بهذا الإسناد. وعند البخاري وأبي داود زيادة: قال حسان: فعددنا ما دون مَنيحة العنز من ردِّ السلام، وتشميت العاطس، وإماطة الأذى عن الطريق، ونحوه، فما استطعنا أن نبلغ خمس عشرة خصلة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: بشر بن بکر سے مراد التنيسی اور امام اوزاعی سے مراد عبد الرحمن بن عمرو ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (2631)، ابو داود (683) اور ابن حبان (5095) نے امام اوزاعی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: بخاری اور ابو داود کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حسان نے کہا: "ہم نے بکری کا عطیہ (منیحہ) دینے سے کم درجے کی نیکیاں شمار کیں جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا وغیرہ، لیکن ہم پندرہ نیکیوں تک بھی نہ پہنچ سکے"۔
واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) ذکر کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے کتبِ صحیحہ میں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: بشر بن بکر سے مراد التنيسی اور امام اوزاعی سے مراد عبد الرحمن بن عمرو ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (2631)، ابو داود (683) اور ابن حبان (5095) نے امام اوزاعی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: بخاری اور ابو داود کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حسان نے کہا: "ہم نے بکری کا عطیہ (منیحہ) دینے سے کم درجے کی نیکیاں شمار کیں جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا وغیرہ، لیکن ہم پندرہ نیکیوں تک بھی نہ پہنچ سکے"۔
واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) ذکر کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے کتبِ صحیحہ میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7769 سے ماخوذ ہے۔