کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جذع (چھ ماہ کا دنبہ) وہی کفایت کرتا ہے جو ثنی (ایک سال کا جانور) کرتا ہے
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري، أخبرنا عبد الله بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، حدثنا عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، قال: كنا نُؤَمّر (1) علينا في المَغازي أصحابَ محمَّد ﷺ، وكُنَّا بفارسَ، فغَلَتْ علينا يومَ النَّحر المَسَانُّ، فكُنَّا نأخذُ المُسِنَّةَ بالجَذَعين، فقام فينا رجلٌ من مُزَينةَ فقال: كُنَّا مع رسول الله ﷺ فأصابَنا مثلُ هذا اليوم، فكُنَّا نأخذُ المُسِنَّةَ بِالجَذَعينِ والثلاثة، فقال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الجَذَعَ يُوفِي بما يُوفِي به الثَّنِيُّ" (2). رواه الثَّوري عن عاصم بن كليب، وسمَّى الصحابيَّ فيه:
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو اپنا امیر بناتے تھے، ہم فارس میں تھے کہ یومِ نحر کو مسنّہ (دو سالہ بھیڑ/بکری) مہنگی ہو گئی، تو ہم ایک مسنّہ کے بدلے دو جذعہ (چھ ماہ والے بچے) لینے لگے، تب قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور ہمیں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو ہم ایک مسنّہ کے بدلے دو یا تین جذعہ لیتے تھے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جذعہ (چھ ماہ کا بچہ) وہی کفایت کرتا ہے جو ثنی (دو سالہ جانور) کفایت کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7729
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، عاصم بن كليب» [ترقيم الرساله 7729] [ترقيم الشركة 7637]
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن عاصم بن كُليب، عن أبيه، قال: كُنَّا مع مُجاشِع بن مسعود السُّلَمي في غَزاةٍ فعزَّتِ الضَّحايا، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إِنَّ الجَذَعَ يُوفِي ممّا يُوفِي منه الثَّنِيُّ" (1). رواه شُعبة عن عاصم بن كليب، ولم يسمِّ الصحابيَّ:
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہاں قربانی کے جانور نایاب ہو گئے تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک جذعہ (بھیڑ کا بچہ) وہی کفایت کرتا ہے جو ثنی (بڑا جانور) کفایت کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7730
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، وسلف الكلام عليه في الحديث السابق» [ترقيم الرساله 7730] [ترقيم الشركة 7638]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، عن رجلٍ من مُزَينة أو جُهَينة، قال: كان أصحابُ رسول الله ﷺ إذا كان قبلَ الأضحى بيومٍ أو يومينِ أعطَوا جَذَعينٍ وأخذوا ثَنيًّا، فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ الجَدْعَةَ تُجزئُ مما تُجزئُ منه الثَّنِيَّةُ" (2).
هذا حديث مختلَف فيه على عاصم بن كُليب، وهو ممن لم يُخرِّجاه الشيخان ﵄، وقد اشترطتُ لنفسي الاحتجاجَ به، والحديثُ عندي صحيحٌ بعد أن أجمَعوا على ذكر الصحابيِّ فيه، ثم سمَّاه إمامُ الصَّنْعة سفيانُ بن سعيد الثَّوري ﵁.
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ قبیلہ مزینہ یا جہینہ کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ قربانی سے ایک یا دو دن پہلے (بڑے جانور کے بدلے) دو جذعہ (بھیڑ کے چھ ماہ کے بچے) دے کر ایک ثنی (دو سالہ جانور) لے لیا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جذعہ وہی کفایت کرتا ہے جو ثنی کفایت کرتا ہے۔“
یہ ایک ایسی حدیث ہے جس میں عاصم بن کلیب پر اختلاف ہے اور یہ ان احادیث میں سے ہے جنہیں شیخین نے روایت نہیں کیا، تاہم میں نے اسے بطور حجت پیش کرنے کی شرط رکھی ہے، اور میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ صحابی کا ذکر کرنے پر سب کا اتفاق ہے، پھر فنِ حدیث کے امام سفیان ثوری نے ان کا نام بھی واضح کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7731
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي من أجل عاصم بن كليب وأبيه» [ترقيم الرساله 7731] [ترقيم الشركة 7639]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن سلمان، عن (1) عُقَيل، عن ابن قُسَيط، عن سعيد بن المسيّب، عن بعض أزواجِ النبيِّ ﷺ قالت: لأَن أُضحِّيَ بجَذَعٍ من الضَّأْن، أحبُّ إليَّ من أن أضحِّيَ بمُسِنَّة من المَعْز (2). رواه محمد بن إسحاق القرشي عن يزيد بن عبد الله بن قُسيط، وسمَّى الصحابيةَ أمَّ سَلَمة:
حافظ طلحہ بابر
سعید بن مسیب نبی کریم ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میرے نزدیک بھیڑ کے جذعہ (چھ ماہ کے بچے) کی قربانی کرنا بکری کی مسنہ (دو سالہ جانور) کی قربانی کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ محمد بن اسحاق نے اس روایت میں ان صحابیہ کا نام سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بتایا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7732
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، عبد الرحمن بن سلمان» [ترقيم الرساله 7732] [ترقيم الشركة 7640]
حَدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الأعلى، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، عن سعيد ابن المسيّب، عن أمِّ سَلَمة زوجِ النبيِّ ﷺ، قالت: لأَن أُضحِّيَ بجَذَع من الضَّأْن، أحبُّ إليَّ من أن أُضحِّيَ بمُسِنَّة من المَعْز (3). وقد أُسنِد هذا الحديثُ عن أبي هريرة:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میرے نزدیک بھیڑ کے جذعہ (چھ ماہ کے بچے) کی قربانی کرنا بکری کی مسنہ (دو سالہ جانور) کی قربانی کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7733
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح كسابقه
تخریج حدیث «خبر صحيح كسابقه، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق: وهو ابن يسار» [ترقيم الرساله 7733] [ترقيم الشركة 7641]