المستدرك على الصحيحين
كتاب الأضاحي— قربانی کے متعلق روایات
إِنَّ الْجَذَعُ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ . باب: جذع (چھ ماہ کا دنبہ) وہی کفایت کرتا ہے جو ثنی (ایک سال کا جانور) کرتا ہے
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، عن رجلٍ من مُزَينة أو جُهَينة، قال: كان أصحابُ رسول الله ﷺ إذا كان قبلَ الأضحى بيومٍ أو يومينِ أعطَوا جَذَعينٍ وأخذوا ثَنيًّا، فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ الجَدْعَةَ تُجزئُ مما تُجزئُ منه الثَّنِيَّةُ" (2).
هذا حديث مختلَف فيه على عاصم بن كُليب، وهو ممن لم يُخرِّجاه الشيخان ﵄، وقد اشترطتُ لنفسي الاحتجاجَ به، والحديثُ عندي صحيحٌ بعد أن أجمَعوا على ذكر الصحابيِّ فيه، ثم سمَّاه إمامُ الصَّنْعة سفيانُ بن سعيد الثَّوري ﵁.
عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ قبیلہ مزینہ یا جہینہ کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ قربانی سے ایک یا دو دن پہلے (بڑے جانور کے بدلے) دو جذعہ (بھیڑ کے چھ ماہ کے بچے) دے کر ایک ثنی (دو سالہ جانور) لے لیا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جذعہ وہی کفایت کرتا ہے جو ثنی کفایت کرتا ہے۔“
یہ ایک ایسی حدیث ہے جس میں عاصم بن کلیب پر اختلاف ہے اور یہ ان احادیث میں سے ہے جنہیں شیخین نے روایت نہیں کیا، تاہم میں نے اسے بطور حجت پیش کرنے کی شرط رکھی ہے، اور میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ صحابی کا ذکر کرنے پر سب کا اتفاق ہے، پھر فنِ حدیث کے امام سفیان ثوری نے ان کا نام بھی واضح کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: عاصم بن کلیب اور ان کے والد کی وجہ سے سند قوی ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (جلد 38، حدیث نمبر 23123) میں درج ہے، اور امام نسائی نے (حدیث نمبر 4458) میں خالد بن حارث کے طریق سے امام شعبہ سے اسے روایت کیا ہے۔