حدیث نمبر: 7705
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْلِ، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا عبد الوارث ابن عبد الصمد، حدثني أبي، حدثنا أبو مَطَر محمد بن سالم، حدثنا ثابت البُنَاني قال: إذا اشتَكيتَ فضَعْ يدك حيث تشتكي، ثم قُلْ: "باسم الله، أعوذُ بعزَّةِ الله وقُدْرتِه من شرِّ ما أجدُ من وَجَعي هذا، ثم ارفَعْ يدَك، ثم أَعِدْ ذلك وِترًا"، فإنَّ أنس بن مالك حدَّثني: أنَّ رسول الله ﷺ حدَّثه بذلك (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7515 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ثابت بنانی سے روایت ہے کہ جب تمہیں کوئی تکلیف ہو تو اپنا ہاتھ وہاں رکھو جہاں درد ہے، پھر کہو: «بِاسْمِ اللَّهِ، أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِي هَذَا» ”اللہ کے نام کے ساتھ، میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس شر سے جو میں اپنی اس تکلیف میں محسوس کر رہا ہوں“، پھر اپنا ہاتھ اٹھاؤ اور اسے طاق تعداد میں دہراؤ، کیونکہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسی طرح کی ہدایت فرمائی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7705
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن سالم: وهو الرَّبَعي البصري» [ترقيم الرساله 7705] [ترقيم الشركة 7613] [ترقيم العلميه 7515]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن سالم: وهو الرَّبَعي البصري. وأخرجه الترمذي (3588) عن عبد الوارث بن عبد الصمد، بهذا الإسناد. وقال: حسن غريب من هذا الوجه.
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور محمد بن سالم الربیعی کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: امام ترمذی (3588) نے اسے "حسن غریب" قرار دیا ہے۔
ويشهد له حديث عثمان بن أبي العاص السالف برقم (1287)، وهو عند مسلم (2202).
متابعات و شواہد: حضرت عثمان بن ابی العاص کی روایت (رقم 1287) جو صحیح مسلم (2202) میں ہے، اس کی شاہد ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7705 سے ماخوذ ہے۔