المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
أَمْسَكَ النَّبِيُّ عَنْ بَيْعَةِ رَجُلٍ فِي عَضُدِهِ تَمِيمَةٌ باب: نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے بیعت لینے سے ہاتھ روک لیا جس کے بازو پر تعویذ بندھا تھا
حدیث نمبر: 7703
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا إمامُ المسلمين أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزيمة ﵁، حدثنا محمد بن موسى الحَرَشي، حدثنا سهل بن أسلم العَدَوي، حدثنا يزيد بن أبي منصور، عن الدُّخَين، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني: أنه جاء في رَكْبٍ عشرة إلى النبيِّ ﷺ، فبايع تسعةً وأمسكَ عن رجل منهم، فقالوا: ما شأنُ هذا الرجل لا تبايعُه؟! فقال: "إِنَّ فِي عَضُدِه تَمِيمةً"، فقطع الرجلُ التميمة، فبايعه رسولُ الله ﷺ، ثم قال: "مَن علَّق فقد أشرَكَ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7513 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دس سواروں کے ایک قافلے کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے ان میں سے نو افراد سے بیعت لی اور ایک شخص سے رک گئے، انہوں نے عرض کیا: اس شخص کا کیا معاملہ ہے کہ آپ اس سے بیعت نہیں لے رہے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بازو پر تعویذ بندھا ہوا ہے“، تب اس شخص نے وہ تعویذ کاٹ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے بیعت لی اور پھر فرمایا: ”جس نے (تعویذ) لٹکایا اس نے شرک کیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث قوي، محمد بن موسى الحرشي -وإن كان فيه لين- متابع، وباقي رجاله لا بأس بهم.
درجۂ حدیث: یہ ایک "قوی" حدیث ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن موسیٰ الحرشی میں اگرچہ کچھ کمزوری ہے مگر ان کی متابعت موجود ہے، اور باقی راوی معتبر ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17422) من طريق عبد العزيز بن مسلم، عن يزيد بن أبي منصور، بهذا الإسناد. وهذا إسناد قوي من أجل يزيد بن أبي منصور.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17422) نے عبد العزیز بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یزید بن ابی منصور کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
وانظر ما سلف برقم (7691).
حوالہ / مصدر: سابقہ رقم (7691) ملاحظہ فرمائیں۔
وفي الباب عن رجل من صُدَاء بايع النبي ﷺ عند ابن وهب في "الجامع (666 - أبو الخير)، ومن طريقه الطحاوي في "شرح المعاني" 4/ 325، وسنده حسن في المتابعات والشواهد.
متابعات و شواہد: اسی باب میں قبیلہ صداء کے ایک شخص کی روایت ابن وہب اور طحاوی کے ہاں موجود ہے، جس کی سند شواہد میں "حسن" ہے۔
درجۂ حدیث: یہ ایک "قوی" حدیث ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن موسیٰ الحرشی میں اگرچہ کچھ کمزوری ہے مگر ان کی متابعت موجود ہے، اور باقی راوی معتبر ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17422) من طريق عبد العزيز بن مسلم، عن يزيد بن أبي منصور، بهذا الإسناد. وهذا إسناد قوي من أجل يزيد بن أبي منصور.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17422) نے عبد العزیز بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یزید بن ابی منصور کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
وانظر ما سلف برقم (7691).
حوالہ / مصدر: سابقہ رقم (7691) ملاحظہ فرمائیں۔
وفي الباب عن رجل من صُدَاء بايع النبي ﷺ عند ابن وهب في "الجامع (666 - أبو الخير)، ومن طريقه الطحاوي في "شرح المعاني" 4/ 325، وسنده حسن في المتابعات والشواهد.
متابعات و شواہد: اسی باب میں قبیلہ صداء کے ایک شخص کی روایت ابن وہب اور طحاوی کے ہاں موجود ہے، جس کی سند شواہد میں "حسن" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7703 سے ماخوذ ہے۔