حدیث نمبر: 7706
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ، حدثني أبي، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، قال: سمعتُ يحيى بن سعيد يقول: أخبرني محمد بن عبد الرحمن بن حارثةَ، عن عَمْرة: أنَّ عائشة أصابها مَرَضٌ، وأنَّ بعضَ بني أخيها ذكروا شَكْواها لرجل من الزُّطِّ (1) يتطبَّبُ، وأنه قال لهم: إنهم لَيَذكُرون امرأةً مسحورةً سَحَرَتها جاريةٌ في حَجْرها صبيٌّ، في حَجْر الجارية الآن صبيٌّ قد بالَ في حَجْرها، فقالت (2): ايتُوني بها، فأُتِيَ بها، فقالت عائشةُ: سَحَرتيني (3)؟ قالت: نعم، قالت: لِمَ؟ قالت: أردتُ أن أُعتَقَ. وكانت عائشةُ قد أعتَقَتْها عن دُبُرٍ منها، فقالت: إنَّ الله عليِّ أن لا تُعتَقِينَ (4) أبدًا، انظروا شرَّ البيوتِ مَلَكةً فبِيعُوها منهم، ثم اشتَرُوا بثمِنها رقبةً فأعتِقُوها (5).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الطب كتاب الأضاحيّ ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7516 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

عمرہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہو گئیں، ان کے بعض بھتیجوں نے ان کی بیماری کا ذکر ایک زطی (علاج کرنے والے) شخص سے کیا، اس نے ان سے کہا: تم ایک ایسی جادو زدہ خاتون کا تذکرہ کر رہے ہو جس پر اس کی لونڈی نے جادو کیا ہے جس کی گود میں بچہ ہے، اس وقت اس لونڈی کی گود میں ایک بچہ ہے جس نے اس کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس لونڈی کو میرے پاس لاؤ، جب اسے لایا گیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا تم نے مجھ پر جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: میں چاہتی تھی کہ میں آزاد ہو جاؤں (کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے اپنی وفات کے بعد آزاد کرنے کی وصیت کی تھی)، تب عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! اب تم کبھی آزاد نہیں ہو گی، پھر اپنے بھتیجوں سے فرمایا: دیکھو کہ کون سا گھرانہ مالکان کے لحاظ سے سب سے برا ہے اسے ان کے ہاتھ بیچ دو، اور اس کی قیمت سے ایک غلام خرید کر اسے آزاد کر دو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7706
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7706] [ترقيم الشركة 7614] [ترقيم العلميه 7516]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: البرط.
نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "البرط" ہو گیا ہے۔
(2) في النسخ الخطية: فقال، والصواب ما أثبتنا.
نوٹ / توضیح: نسخوں میں "فقال" ہے، جبکہ درست لفظ وہی ہے جو ہم نے متن میں لکھا ہے۔
(3) في (ز) وحدها: سحرتني، وكلاهما جائز.
نوٹ / توضیح: صرف نسخہ (ز) میں "سحرتنی" کے الفاظ ہیں، اور دونوں طرح کے الفاظ جائز ہیں۔
(4) كذا في النسخ الخطية بإثبات النون، والجادّة حذفها.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں اسی طرح 'نون' کے اثبات (لکھنے) کے ساتھ موجود ہے، جبکہ رائج اور درست طریقہ اسے حذف کرنا ہے۔
(5) إسناده صحيح. يحيى بن سعيد: هو الأنصاري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی یحییٰ بن سعید سے مراد یحییٰ بن سعید الانصاری ہیں۔
وأخرجه الدارقطني (4267)، ومن طريقه البيهقي 8/ 133 من طريق محمد بن المثنى، عن عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (4267) نے روایت کیا ہے، اور انہی کے واسطے سے بیہقی (8/133) نے محمد بن مثنیٰ کے طریق سے، انہوں نے عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی سے اور انہوں نے اسی سند کے ساتھ اسے نقل کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 40/ (24126) عن سفيان بن عيينة، عن يحيى الأنصاري، عن ابن أخي عمرة -وشك فيه- عن عمرة، فذكرته. وانظر تتمة تخريجه والكلام عليه في "المسند".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 'المسند' (40/24126) میں سفیان بن عیینہ کے طریق سے روایت کیا ہے، انہوں نے یحییٰ بن سعید الانصاری سے، انہوں نے عمرہ کے بھتیجے سے (جس میں شک واقع ہوا ہے) اور انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: اس کی مزید تخریج اور تفصیلی بحث کے لیے 'مسند احمد' کی مراجعت فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7706 سے ماخوذ ہے۔