المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
التَّمِيمَةُ مَا تَعَلَّقَ بِهِ قَبْلَ الْبَلَاءِ باب: تمیمہ (تعویذ) وہ ہے جو بلا آنے سے پہلے (دفعِ بلا کے لیے) لٹکایا جائے
حدیث نمبر: 7698
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكيرًا حدثه، أَنَّ أُمَّه حدَّثته: أَنَّها أرسلَتْ إلى عائشة بأخيه مَخرَمة، وكانت تُداوي من قَرْحةٍ تكون بالصِّبيان، فلما داوته عائشةُ وفَرَغَت منه، رأَتْ في رِجلَيه خَلْخالَي (2) حديد، فقالت عائشةُ: أظننتُم أنَّ هذين الخَلْخالَينِ يَدفَعانِ عنه شيئًا كتبه الله عليه؟ لو رأيتُهما ما تَداوَى عندي، وما مُسَّ عندي لَعَمْرِي لَخلخالانِ (1) من فِضَّة أطهرُ من هذين (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7508 - حذفه الذهبي من التلخيصحافظ طلحہ بابر
بکیر کی والدہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے مخرمہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا جبکہ وہ بچوں کے زخموں کا علاج کر رہی تھیں، جب عائشہ رضی اللہ عنہا علاج سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے بچے کے پیروں میں لوہے کی دو پازیبیں دیکھیں، انہوں نے پوچھا: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ لوہے کی پازیبیں اس چیز کو ٹال دیں گی جو اللہ نے اس کے مقدر میں لکھ دی ہے؟ اگر میں انہیں پہلے دیکھ لیتی تو میرے پاس اس کا علاج نہ ہوتا، اور میری زندگی کی قسم! چاندی کی پازیبیں ان دونوں سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده فيه لين، أم بكير لم نقف لها على ترجمة. وهو في جامع ابن وهب" (668 - أبو الخير).
درجۂ حدیث: اس کی سند میں "لین" (کمزوری) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ام بکیر نامی خاتون کے حالاتِ زندگی معلوم نہیں ہو سکے۔ یہ روایت "جامع ابن وہب" (668) میں بھی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند میں "لین" (کمزوری) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ام بکیر نامی خاتون کے حالاتِ زندگی معلوم نہیں ہو سکے۔ یہ روایت "جامع ابن وہب" (668) میں بھی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7698 سے ماخوذ ہے۔