کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جب تم میں سے کوئی اپنے آپ میں یا اپنے بھائی میں کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو برکت کی دعا دے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجَوَّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن عبد الله بن عيسى، عن أُميّة بن هِنْد، عن عبد الله بن عامر بن رَبيعة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا رأى أحدُكم من نفسِه وأخيه ما يُعجِبُه، فَلْيَدْعُ بالبَرَكة، فإنَّ العينَ حقٌّ" (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بذكر البَرَكة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7499 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی ذات یا اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے پسند آئے تو اسے برکت کی دعا دینی چاہیے، کیونکہ نظر کا لگنا حق ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے برکت کے ذکر کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7689
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أمية بن هند مجهول الحال» [ترقيم الرساله 7689] [ترقيم الشركة 7597] [ترقيم العلميه 7499]
أخبرنا علي بن عيسى الحيري، حدثنا محمد بن عمرو بن النَّضر الحَرَشي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا وكيع بن الجرَّاح بن مَلِيح، حدثنا أَبي (1)، عن عبد الله بن عيسى، عن أميّة بن هند بن سعد بن سهل بن حُنَيف، عن عبد الله بن عامر ابن رَبيعة قال: خرج سهلُ بن حُنَيف ومعه عامرُ بن ربيعة يريدان الغُسلَ، فانتَهَيا إلى غَدِير، فخرج سهل يريد الخَمَرَ -قال وكيع: يعني به السِّتْر- حتى إذا رأى أنه قد نَزَعَ جُبَّةً عليه من صُوف فوضعها ثم دخل الماء، قال: فنظرتُ إليه فأصبتُه بعَيْني، فسمعتُ له قَرقَفةً في الماء، فأتيته فناديته ثلاثًا، فلم يُجِبْني، فأتيتُ النبيَّ ﷺ فأخبرتُه، فجاء يمشي، فخاضَ الماءَ حتى كأنِّي أنظُرُ إلى بياضِ ساقَيه، فضربَ صدَره، ثم قال: "اللهمَّ أذهِبْ عنه حَرَّها وبَرْدَها ووَصَبَها"، فقام، فقال النبيُّ ﷺ: "إذا رأى أحدُكم من نفسه أو ماله أو أخيه، ما يُحِبُّ، فليُبرك، فإنَّ العينَ حقٌّ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7500 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ سیدنا سہل بن حنیف اور سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما غسل کے ارادے سے نکلے اور ایک تالاب پر پہنچے، سہل رضی اللہ عنہ آڑ تلاش کرنے کے لیے آگے بڑھے یہاں تک کہ انہوں نے اپنا اونی جبہ اتار کر رکھا اور پانی میں داخل ہو گئے، عامر کہتے ہیں کہ میں نے انہیں دیکھا تو میری نظر لگ گئی، میں نے پانی میں ان کے تڑپنے کی آواز سنی، میں ان کے پاس آیا اور تین بار آواز دی مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو بتایا، آپ ﷺ پیدل تشریف لائے اور پانی میں داخل ہوئے یہاں تک کہ گویا میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا، آپ ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور یہ دعا دی: «اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا» ”اے اللہ! اس (نظر) کی تپش، اس کی ٹھنڈک اور اس کی بیماری کو اس سے دور کر دے“، چنانچہ وہ کھڑے ہو گئے، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی ذات، اپنے مال یا اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے پسند آئے تو اسے برکت کی دعا دینی چاہیے «فلیُبرک»، کیونکہ نظر کا لگنا حق ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7690
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، كما أنه مرسل لم يذكر فيه صحابيه عبد الله ابن عامر» [ترقيم الرساله 7690] [ترقيم الشركة 7598] [ترقيم العلميه 7500]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحر بن نَصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني حَيْوة، عن خالد بن عُبيد المَعَافري، عن مِشرَح بن هاعان، أنه سمع عُقبة بن عامر يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن عَلَّقَ تَمِيمةً، فلا أتمَّ اللهُ له، ومن عَلَّقَ وَدَعةً، فلا وَدَعَ اللهُ له" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7501 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے کوئی تمیمہ (تعویذ) لٹکایا تو اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے، اور جس نے کوئی ودعہ (سمندری کوڑی) لٹکائی تو اللہ اسے سکون نہ دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7691
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة خالد بن عبيد المعافري فلم يرو عنه غير حيوة» [ترقيم الرساله 7691] [ترقيم الشركة 7599] [ترقيم العلميه 7501]
أخبرنا أحمد بن سَلْمان (2) الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا عثمان ابن عمر، أخبرنا أبو عامر صالح بن رُسْتُم، عن الحسن، عن عمران بن حُصَين قال: دخلتُ على النبيِّ ﷺ وفي عَضُدِي حَلْقَةُ صُفْرٍ، فقال: "ما هذه؟ " فقلت: من الواهِنَةِ، فقال: "انبِذْها" (3). هذ ا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7502 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ میرے بازو میں پتل کا ایک چھلا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ واہنہ (کمزوری کی بیماری) کی وجہ سے ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پھینک دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7692
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، فالحسن» [ترقيم الرساله 7692] [ترقيم الشركة 7600] [ترقيم العلميه 7502]