حدیث نمبر: 7690
أخبرنا علي بن عيسى الحيري، حدثنا محمد بن عمرو بن النَّضر الحَرَشي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا وكيع بن الجرَّاح بن مَلِيح، حدثنا أَبي (1)، عن عبد الله بن عيسى، عن أميّة بن هند بن سعد بن سهل بن حُنَيف، عن عبد الله بن عامر ابن رَبيعة قال: خرج سهلُ بن حُنَيف ومعه عامرُ بن ربيعة يريدان الغُسلَ، فانتَهَيا إلى غَدِير، فخرج سهل يريد الخَمَرَ -قال وكيع: يعني به السِّتْر- حتى إذا رأى أنه قد نَزَعَ جُبَّةً عليه من صُوف فوضعها ثم دخل الماء، قال: فنظرتُ إليه فأصبتُه بعَيْني، فسمعتُ له قَرقَفةً في الماء، فأتيته فناديته ثلاثًا، فلم يُجِبْني، فأتيتُ النبيَّ ﷺ فأخبرتُه، فجاء يمشي، فخاضَ الماءَ حتى كأنِّي أنظُرُ إلى بياضِ ساقَيه، فضربَ صدَره، ثم قال: "اللهمَّ أذهِبْ عنه حَرَّها وبَرْدَها ووَصَبَها"، فقام، فقال النبيُّ ﷺ: "إذا رأى أحدُكم من نفسه أو ماله أو أخيه، ما يُحِبُّ، فليُبرك، فإنَّ العينَ حقٌّ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7500 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ سیدنا سہل بن حنیف اور سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما غسل کے ارادے سے نکلے اور ایک تالاب پر پہنچے، سہل رضی اللہ عنہ آڑ تلاش کرنے کے لیے آگے بڑھے یہاں تک کہ انہوں نے اپنا اونی جبہ اتار کر رکھا اور پانی میں داخل ہو گئے، عامر کہتے ہیں کہ میں نے انہیں دیکھا تو میری نظر لگ گئی، میں نے پانی میں ان کے تڑپنے کی آواز سنی، میں ان کے پاس آیا اور تین بار آواز دی مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو بتایا، آپ ﷺ پیدل تشریف لائے اور پانی میں داخل ہوئے یہاں تک کہ گویا میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا، آپ ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور یہ دعا دی: «اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا» ”اے اللہ! اس (نظر) کی تپش، اس کی ٹھنڈک اور اس کی بیماری کو اس سے دور کر دے“، چنانچہ وہ کھڑے ہو گئے، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی ذات، اپنے مال یا اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے پسند آئے تو اسے برکت کی دعا دینی چاہیے «فلیُبرک»، کیونکہ نظر کا لگنا حق ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7690
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، كما أنه مرسل لم يذكر فيه صحابيه عبد الله ابن عامر» [ترقيم الرساله 7690] [ترقيم الشركة 7598] [ترقيم العلميه 7500]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ص) و (م) مكان لفظ "أبي" بياض.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (م) میں لفظ "أبي" کی جگہ خالی (بیاض) چھوڑی گئی ہے۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، كما أنه مرسل لم يذكر فيه صحابيه عبد الله ابن عامر.
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی سند سابقہ سند کی طرح ضعیف ہے، نیز یہ "مرسل" ہے کیونکہ اس میں صحابیِ رسول عبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔
وأخرجه أحمد 24 / (15700) عن وكيع بن الجراح بهذا الإسناد. ووقع عنده قلبٌ بين عامر ابن ربيعة وسهل بن حنيف.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 24 / (15700) میں وکیع بن الجراح کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام احمد کی روایت میں عامر بن ربیعہ اور سہل بن حنیف کے ناموں میں "قلب" (تبادلہ/الٹ پھیر) واقع ہو گیا ہے۔
وانظر ما قبله.
نوٹ / توضیح: اس سے ماقبل والی بحث ملاحظہ کریں۔
والخَمَر بالتحريك: ما يستر ويُواري من شجر وغيره.
نوٹ / توضیح: "الخَمَر" (میم کے زبر کے ساتھ) سے مراد وہ درخت یا جھاڑیاں ہیں جو انسان کو چھپا لیں یا اوٹ فراہم کریں۔
والقَرقَفة: الرِّعدة.
نوٹ / توضیح: "القرقفہ" کا مطلب ہے کپکپی یا لرزہ طاری ہونا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7690 سے ماخوذ ہے۔