حدیث نمبر: 7675
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه، عن عوف بن مالك الأشجعي قال: كُنَّا نَرْقي في الجاهلية، فقلنا: يا رسولَ الله، كيف ترى في ذلك؟ فقال: "اعرِضُوا عليَّ رُقَاكم، لا بأسَ بالرُّقَى ما لم يكن شِركٌ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7485 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم دورِ جاہلیت میں دم (جھاڑ پھونک) کیا کرتے تھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے دم مجھ پر پیش کرو، دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس میں شرک (کا شائبہ) نہ ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7675
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7675] [ترقيم الشركة 7583] [ترقيم العلميه 7485]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه مسلم (2200)، وأبو داود (3886)، وابن حبان (6094) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم، ابو داود اور ابن حبان نے عبد اللہ بن وہب کے طرق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی چوک ہے کیونکہ یہ صحیح مسلم میں پہلے ہی موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7675 سے ماخوذ ہے۔