کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جب تم میں سے کسی کو بخار ہو، تو سحر کے وقت تین راتیں اس پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے جائیں
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبيد الله بن محمد ابنُ عائشة، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حميد، عن أنس بن مالك، أنَّ النبي ﷺ قال: "إذا حُمَّ أحدُكم، فليَشُنَّ الماءَ الباردَ ثلاثَ ليالٍ من السَّحَر" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وإنما اتَّفقا (1) على الأسانيد في أنَّ "الحُمَّى من فَيْح جهنَّم، فأَطفِئوها بالماء".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7438 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ سحری کے وقت تین راتوں تک (اپنے جسم پر) ٹھنڈا پانی چھڑکے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں کا ان اسانید پر اتفاق ہے جن میں یہ مذکور ہے کہ ”بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، پس اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7626
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، ظاهر إسناده الصحة، غير أنَّ أبا حاتم أعلَّه» [ترقيم الرساله 7626] [ترقيم الشركة 7534] [ترقيم العلميه 7438]
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إبراهيم بن الحُسين (2) الهَمَذاني وهشام بن علي السِّيرافي، قالا: حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا همَّام بن يحيى، عن أبي جَمْرة الضُّبعي، قال: كنتُ أجلِسُ إلى ابن عباس بمكةَ، ففَقَدني أيامًا، فلمَّا جئتُ قال: ما حَبَسَك؟ قال: قلت: حُمِمتُ، فقال: ابرُدْها عنك بماء زمزم [فإنَّ رسول الله ﷺ قال: "الحُمَّى مِن فَيْح جهنَّمَ، فَابْرُدُوها بماءِ زمزمَ] (3) " (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7439 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابو جمرہ ضبعی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مکہ مکرمہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا، پھر چند دن میں غائب رہا، جب میں دوبارہ حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے روک دیا تھا؟ میں نے عرض کیا: مجھے بخار ہو گیا تھا، انہوں نے فرمایا: اسے زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”بخار جہنم کی تپش میں سے ہے، پس اسے زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7627
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن رجاء» [ترقيم الرساله 7627] [ترقيم الشركة 7535] [ترقيم العلميه 7439]