کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اگر کوئی چیز موت سے شفا دینے والی ہوتی تو وہ "سنا" (سنا مکی) ہوتی
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان ابن صالح بمصر، حدثنا سعيد بن أبي مريم أخبرنا عبد الله بن فَرُّوخَ، حدثني ابنُ جُريج، عن سعيد بن عُقبة الزُّرقي، عن زُرْعة بن عبد الله بن زياد، أنَّ عمر بن الخطاب حدثه عن أسماءَ بنت عُميس: أنَّ رسول الله ﷺ دخل عليها ذاتَ يومٍ وعندها شُبْرُمٌ تدقُّه، فقال: "ما تَصنَعينَ به؟ " فقالت: نَسقِيه فلانًا، فقال: "إنَّه داءٌ". قال: ودخَلَ عليه وعندها سَنَا، فقال: "ما تَصنَعين بهذا؟ " فقالت: يشربُه فلانٌ، فقال: "لو أنَّ شيئًا يدفعُ الموت -أو ينفع من الموت- نَفَع السَّنَا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث البصريين عن أسماء بنت عُميس ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7440 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث البصريين عن أسماء بنت عُميس ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7440 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ان کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ «شُبْرُمٌ» ”شبرم“ (ایک دست آور بوٹی) کو کوٹ رہی تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اس کا کیا کرتی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم اسے فلاں شخص کو پلاتے ہیں (تاکہ اس کا پیٹ صاف ہو جائے)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو بیماری (یعنی نہایت سخت اور نقصان دہ) ہے۔“ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر آپ ﷺ دوبارہ تشریف لائے تو ان کے پاس «سَنَا» ”سنا“ (سنا مکی) تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اس کا کیا کرتی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اسے فلاں شخص پیتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی چیز ایسی ہوتی جو موت کو روک سکتی یا موت کے مقابلے میں نفع دے سکتی تو وہ سنا ہوتی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو محمد الحسن بن محمد الإسفرايني، حدثنا أبو بكر محمد ابن محمد بن رَجَاء بن السِّندي، حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني عُتبة بن عبد الله التَّيْمي، عن أسماء بنت عُميس: أنَّ رسولَ الله ﷺ سألها: "بماذا تَستمشِينَ؟ " قالت: كنتُ أَستمشي بالشُّبْرُم، قال: "حارٌّ جارٌّ"، قالت: ثم استمشيتُ بالسَّنَا، فقال رسولُ الله ﷺ: "لو أنَّ شيئًا كان فيه الشِّفاءُ من الموت، لكان السَّنَا" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”تم پیٹ صاف کرنے (جلاب) کے لیے کیا استعمال کرتی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں ”شبرم“ استعمال کرتی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو بہت گرم اور شدید (جلانے والی) ہے،“ انہوں نے کہا: پھر میں نے ”سنا“ استعمال کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی ایسی چیز ہوتی جس میں موت سے شفا ہوتی تو وہ سنا ہوتی۔“