کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: مردوں کے لیے کسم (زرد/سرخ رنگ) سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے کی ممانعت
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد القَنْطري، حَدَّثَنَا أبو قِلابة، حَدَّثَنَا أبو عاصم، حَدَّثَنَا ابن جُريج، عن ابن طاووس، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو بن العاص: أنَّه دخل على النَّبِيّ ﷺ وعليه ثوبٌ مُعصفَر، فقال: "من أينَ لك هذا؟ " قال: صنعَتْه لي أهلي، فقال النَّبِيُّ ﷺ: "احرِقْه" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والبيان الشّافي فيه في الحديث الذي:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والبيان الشّافي فيه في الحديث الذي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ انہوں نے کسم (عصفر) سے رنگا ہوا کپڑا پہنا ہوا تھا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ میری اہلیہ نے میرے لیے تیار کیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے جلا دو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حَدَّثَنَا أبي وشعيب بن الليث، قالا: حَدَّثَنَا الليث، حَدَّثَنَا خالد بن يزيد، عن سعيد بن [أبي] (1) هلال، عن عطاء بن أبي رَبَاح وعن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو أنه قال: دخلتُ يومًا على رسولِ الله ﷺ وعليَّ ثوبانِ مُعصفَرانِ، فقال لي رسول الله ﷺ: "ما هذانِ الثوبانِ؟ " قال: صَبغَتْهما لي أمُّ عبد الله، فقال رسول الله: "أقسمتُ عليكَ لَمَا رجعتَ إلى أُمِّ عبد الله فأمرتَها أن تُوقِدَ لهما التنُّورَ، ثم تَطرَحَهما فيه"، فرجعتُ إليها، ففعلتُ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخانِ ﵄ من النَّهي على لُبْس المُعصفَر للرجل على حديث علي ﵁، وفيه: نهاني النَّبِيُّ ﷺ، ولا أقولُ: نهاكم (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7397 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخانِ ﵄ من النَّهي على لُبْس المُعصفَر للرجل على حديث علي ﵁، وفيه: نهاني النَّبِيُّ ﷺ، ولا أقولُ: نهاكم (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7397 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور مجھ پر کسم سے رنگے ہوئے دو کپڑے تھے، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”یہ دو کپڑے کیسے ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ ام عبداللہ (ان کی اہلیہ) نے میرے لیے رنگے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ام عبداللہ کے پاس واپس جاؤ اور اسے کہو کہ وہ تندور دہکائے اور ان دونوں کپڑوں کو اس میں ڈال دے“، چنانچہ میں ان کے پاس واپس گیا اور ایسا ہی کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور شیخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مردوں کے لیے کسم سے رنگے ہوئے کپڑے پہننا منع ہے جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے منع فرمایا لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں (عام طور پر) منع فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور شیخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مردوں کے لیے کسم سے رنگے ہوئے کپڑے پہننا منع ہے جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے منع فرمایا لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں (عام طور پر) منع فرمایا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى، عن هشام، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني محمد بن إبراهيم، أنَّ خالد بن مَعْدان أخبره، أنَّ جُبير بن نُفير أخبره، أنَّ عبد الله بن عمرو بن العاص أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ رأى عليه ثوبَينِ مُعصفَرين، فقال: "إِنَّ هذه (2) ثيابُ الكفار، فلا تَلْبَسْها" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7398 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7398 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر کسم سے رنگے ہوئے دو کپڑے دیکھے تو فرمایا: ”بے شک یہ کفار کے کپڑے ہیں، لہٰذا تم انہیں مت پہنو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا إسحاق بن منصور السَّلُولي، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن أبي يحيى القَتَّات، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو قال: مرَّ على النَّبِيِّ ﷺ رجلٌ وعليه ثوبانِ أحمرانِ، فسلَّم فلم يردَّ عليه رسولُ الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7399 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7399 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے دو سرخ کپڑے پہن رکھے تھے، اس نے سلام کیا لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔