أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان المُرادي وبحرُ بن نصر بن سابق الخَوْلاني، قالا: حَدَّثَنَا بِشر بن بكر، حَدَّثَنَا الأوزاعي، حدثني حسان بن عطيَّة، عن محمد بن المُنكدِر، حدثني جابر بن عبد الله قال: أتانا رسولُ الله ﷺ، فرأى رجلًا ثائرَ الرأس، فقال: "أما يَجِدُ هذا ما يُسكِّنُ به شعرَه؟! " ورأى رجلًا وَسِخَ الثياب، فقال: "أمَا يَجِدُ هذا ما يُنقِّي به ثيابَه؟ " (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7380 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7380 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس شخص کو کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے یہ اپنے بالوں کو درست کر لیتا؟!“ اور آپ ﷺ نے ایک اور شخص کو دیکھا جس کے کپڑے میلے تھے تو فرمایا: ”کیا اس شخص کو کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے یہ اپنے کپڑے صاف کر لیتا؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حَدَّثَنَا شَبَابة بن سَوَّار (1)، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن العَيْزار بن حُرَيث، عن أمِّ الحُصين الأحمَسِية، قالت: رأيتُ النَّبِيَّ ﷺ وعليه بُرْدُه قد التَفَعَ به تحت إِبْطِه، كأني أنظرُ إلى عَضَلَة عَضُدِه تَرتجُّ، فسمعتُه يقول: "يا أيها الناسُ، اتَّقوا الله، وإن أُمَّرَ عليكم عبدٌ حَبَشِيٌّ فَاسْمَعُوا له وأَطِيعُوا ما أقامَ لكم كتابَ الله ﷿" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7381 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7381 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام الحصین الاحمسیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ پر ایک چادر تھی جسے آپ ﷺ نے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹا ہوا تھا، گویا میں آپ ﷺ کے بازو کے پٹھے کو حرکت کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، پھر میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر تم پر کوئی حبشی غلام بھی امیر مقرر کر دیا جائے تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو جب تک وہ تمہارے درمیان اللہ عزوجل کی کتاب کو قائم رکھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔