حدیث نمبر: 7567
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان المُرادي وبحرُ بن نصر بن سابق الخَوْلاني، قالا: حَدَّثَنَا بِشر بن بكر، حَدَّثَنَا الأوزاعي، حدثني حسان بن عطيَّة، عن محمد بن المُنكدِر، حدثني جابر بن عبد الله قال: أتانا رسولُ الله ﷺ، فرأى رجلًا ثائرَ الرأس، فقال: "أما يَجِدُ هذا ما يُسكِّنُ به شعرَه؟! " ورأى رجلًا وَسِخَ الثياب، فقال: "أمَا يَجِدُ هذا ما يُنقِّي به ثيابَه؟ " (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7380 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس شخص کو کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے یہ اپنے بالوں کو درست کر لیتا؟!“ اور آپ ﷺ نے ایک اور شخص کو دیکھا جس کے کپڑے میلے تھے تو فرمایا: ”کیا اس شخص کو کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے یہ اپنے کپڑے صاف کر لیتا؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7567
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7567] [ترقيم الشركة 7476] [ترقيم العلميه 7380]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 23/ (14850)، وأبو داود (4062)، والنسائي (9261)، وابن حبان (5483) من طرق عن الأوزاعي، بهذا الإسناد. ورواية النسائي مختصرة بشطره الأول.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (23/ 14850)، ابوداؤد (4062)، نسائی (9261) اور ابن حبان (5483) نے اوزاعی سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے کی ہے۔ نسائی کی روایت پہلے حصے پر مشتمل مختصر ہے۔
وروى يحيى بن سعيد الأنصاري عن محمد المنكدر عن أبي قتادة قال: كانت له جُمّة ضخمة فسأل النَّبِيّ ﷺ، فأمره أن يحسن إليها وأن يترجّل كل يوم. أخرجه النسائي (9262) وقال: وهذا أشبه بالصواب. قلنا: رجح النسائي هذه الرواية المرسلة - فابن المنكدر عن أبي قتادة مرسَل - لأنَّ مدار الحديثين على محمد بن المنكدر، لكن ظاهر الحديثين أنهما قصتان مختلفتان، والله تعالى أعلم.
حوالہ / مصدر: یحییٰ بن سعید انصاری نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے ابو قتادہ سے روایت کیا کہ: "ان کے بڑے بال (جمہ) تھے، انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ ان کا خیال رکھیں اور روزانہ کنگھی کریں۔" اسے نسائی (9262) نے روایت کیا اور کہا: "یہ زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔"
فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں: نسائی نے اس مرسل روایت کو ترجیح دی ہے (کیونکہ ابن منکدر کی ابو قتادہ سے روایت مرسل ہے)، اس وجہ سے کہ دونوں حدیثوں کا مدار محمد بن منکدر پر ہے، لیکن دونوں حدیثوں کا ظاہر بتاتا ہے کہ یہ دو الگ الگ قصے ہیں، واللہ تعالیٰ اعلم۔
وفي الباب عن عطاء بن يسار، قال: كان رسول الله ﷺ في المسجد، فدخل رجل ثائر الرأس واللحية، فأشار إليه رسول الله ﷺ بيده: أن اخرُج - كأنه يعني إصلاح شعر رأسه ولحيته - ففعل الرجل ثم رجع، فقال رسول الله ﷺ: "أليس هذا خيرًا من أن يأتي أحدكم ثائر الرأس كأنه شيطان".
تفصیلِ روایت: اس باب میں عطاء بن یسار سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مسجد میں تھے، ایک آدمی داخل ہوا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ نے اسے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ باہر جاؤ - گویا آپ کا مقصد تھا کہ وہ اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو درست کرے - اس آدمی نے ایسا ہی کیا اور واپس آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی اس حال میں آئے کہ اس کے بال بکھرے ہوں گویا وہ شیطان ہے؟"
أخرجه مالك 2/ 949 هكذا مرسلًا، ورجاله ثقات.
حوالہ / مصدر: اسے امام مالک (2/ 949) نے اسی طرح مرسلًا تخریج کیا ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7567 سے ماخوذ ہے۔