المستدرك على الصحيحين
كتاب اللباس— لباس کے متعلق روایات
تَزْيِينُ الشَّعَرِ باب: بالوں کی آرائش و زیبائش کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7568
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حَدَّثَنَا شَبَابة بن سَوَّار (1)، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن العَيْزار بن حُرَيث، عن أمِّ الحُصين الأحمَسِية، قالت: رأيتُ النَّبِيَّ ﷺ وعليه بُرْدُه قد التَفَعَ به تحت إِبْطِه، كأني أنظرُ إلى عَضَلَة عَضُدِه تَرتجُّ، فسمعتُه يقول: "يا أيها الناسُ، اتَّقوا الله، وإن أُمَّرَ عليكم عبدٌ حَبَشِيٌّ فَاسْمَعُوا له وأَطِيعُوا ما أقامَ لكم كتابَ الله ﷿" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7381 - صحيححافظ طلحہ بابر
ام الحصین الاحمسیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ پر ایک چادر تھی جسے آپ ﷺ نے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹا ہوا تھا، گویا میں آپ ﷺ کے بازو کے پٹھے کو حرکت کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، پھر میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر تم پر کوئی حبشی غلام بھی امیر مقرر کر دیا جائے تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو جب تک وہ تمہارے درمیان اللہ عزوجل کی کتاب کو قائم رکھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى سيار.
نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "سیار" بن گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند جید ہے۔
وأخرجه أحمد 45/ (27260) و (27266) و (27268)، والترمذي (1706) من طرق عن يونس بن أبي إسحاق، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (45/ 27260، 27266، 27268) اور ترمذی (1706) نے یونس بن ابی اسحاق سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے کی ہے۔ امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 27/ (16646)، ومسلم (1298)، وابن ماجه (2861)، والنسائي (7767)، وابن حبان (4564) من طريق يحيى بن الحصين، عن جدته أم الحصين.
حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت احمد (27/ 16646)، مسلم (1298)، ابن ماجہ (2861)، نسائی (7767) اور ابن حبان (4564) نے یحییٰ بن حصین سے، انہوں نے اپنی دادی ام حصین سے روایت کی ہے۔
نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "سیار" بن گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند جید ہے۔
وأخرجه أحمد 45/ (27260) و (27266) و (27268)، والترمذي (1706) من طرق عن يونس بن أبي إسحاق، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (45/ 27260، 27266، 27268) اور ترمذی (1706) نے یونس بن ابی اسحاق سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے کی ہے۔ امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 27/ (16646)، ومسلم (1298)، وابن ماجه (2861)، والنسائي (7767)، وابن حبان (4564) من طريق يحيى بن الحصين، عن جدته أم الحصين.
حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت احمد (27/ 16646)، مسلم (1298)، ابن ماجہ (2861)، نسائی (7767) اور ابن حبان (4564) نے یحییٰ بن حصین سے، انہوں نے اپنی دادی ام حصین سے روایت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7568 سے ماخوذ ہے۔