کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہذا دیکھو کہ تم کس سے دوستی کر رہے ہو
حدّثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق ببغداد، حدّثنا جعفر بن الزِّبرِقان، حدّثنا أبو عامر العَقَديّ، حدّثنا زهير بن محمد العَنَبريّ، حدَّثني موسى بن وَرْدان، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: "المرءُ على دينِ خَليلِه، فليَنظُرْ أحدُكم من يُخالُّ" (1). وقد رُوي عن أبي الحُباب سعيد بن يسار عن أبي هريرة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔“
اور یہ حدیث ابوحباب سعید بن یسار کے واسطے سے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
اور یہ حدیث ابوحباب سعید بن یسار کے واسطے سے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أحمد بن عيسى اللَّخْميّ، حدّثنا عمرو بن أبي سلمة، حدّثنا صَدَقة بن عبد الله، عن إبراهيم بن محمد الأنصاريّ، عن سعيد بن يسار، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "المرءُ على دين خَليلِه، فليَنظُرْ أحدُكم من يُخالِلُ" (2). حديث أبي الحُبَاب صحيح إن شاء الله تعالى، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7320 - صحيح إن شاء الله
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7320 - صحيح إن شاء الله
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو بغور دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔“
امام حاکم نے فرمایا کہ ابوحباب کی یہ حدیث ان شاء اللہ صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام حاکم نے فرمایا کہ ابوحباب کی یہ حدیث ان شاء اللہ صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔