کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جن پر قیامت کے دن انبیاء اور صدیقین بھی رشک کریں گے
حدّثنا أحمد بن كامل القاضي، حدّثنا محمد بن سعد العَوْفيّ، حدّثنا سعيد بن عامر، حدّثنا شُعبة. أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حدّثنا محمد بن جعفر، حدّثنا شُعبة، عن يعلى بن عطاء، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن أبي إدريس الخولانيّ، قال: جلستُ مجلسًا فيه عِشرون من أصحاب محمد ﷺ، فإذا فيهم شابٌّ حسنُ الوجه، حسنُ السِّنّ، أدعج العينين، أغَرُّ الثَّنايا، فإذا اختُلفوا في شيء فقالوا قولًا، انتهَوْا إلى قوله، فإذا هو معاذُ بن جبل، فلمّا كان من الغدِ جئتُ، فإذا هو يُصلِّي عند ساريةٍ، فحَذَفَ صلاته ثم احتَبَى فسكتَ، فقلتُ: إِنِّي لأُحبُّك من جَلال الله، فقال: اللهِ؟ فقلت: الله، فقال: فإنَّ المتحابِّين في الله - قال: أحسبُ أنه قال: في ظِلِّ الله يومَ لا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّه، ثم ليس في بقيّته شك - يُوضَع لهم كراسيُّ من نور، يَغبِطُهم بمجلسِهم من الربِّ ﵎ النبيُّون والصِّدِّيقون والشهداءُ. قال: فحدَّثتُ به عُبادةَ بن الصامت فقال: لا أُحدِّثك إِلَّا ما سمعتُ على لسان رسول الله ﷺ، إنه قال: "حَقَّتْ محبّتي للمتحابِّين فيَّ، وحَفَّت محبَّتي للمتباذِلين فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتصافِينَ فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتزاوِرين فيَّ، وحَقَّتْ محبَّتي للمتواصلين فيَّ"؛ شكّ شعبةُ في المتواصلين والمتزاورين (1). و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه عطاء الخُراساني عن أبي إدريس الخولانيّ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ادریس خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک ایسی مجلس میں بیٹھا جس میں رسول اللہ ﷺ کے بیس صحابہ کرام موجود تھے، ان میں ایک نہایت خوش رو اور وجیہہ نوجوان بھی تھا جس کی آنکھیں گہری سیاہ اور سامنے کے دانت چمکدار تھے، جب صحابہ کسی بات میں اختلاف کرتے اور وہ نوجوان اپنی رائے دیتا تو سب اس کے قول پر متفق ہو کر رک جاتے، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، جب اگلا دن ہوا تو میں دوبارہ آیا تو دیکھا کہ وہ ایک ستون کے پاس نماز پڑھ رہے ہیں، انہوں نے اپنی نماز مختصر کی اور پھر گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ لگا کر بیٹھ گئے اور خاموش رہے، میں نے کہا: ”میں اللہ کی عظمت کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں“، انہوں نے پوچھا: ”اللہ کی قسم؟“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم“، تو انہوں نے کہا: ”بے شک اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے لیے — میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا: قیامت کے دن اللہ کے سائے میں جب اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اور باقی الفاظ میں کوئی شک نہیں— نور کے منبر بچھائے جائیں گے، ان کے بیٹھنے کے مقام کو دیکھ کر انبیاء، صدیقین اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔“ ابو ادریس کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہ بات سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے کہا: میں تمہیں وہی بات بتاؤں گا جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے سنی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان کے لیے لازم ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے پر مال خرچ کرتے ہیں، میری محبت ان کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے کے لیے دل صاف رکھتے ہیں، میری محبت ان کے لیے حق ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں اور میری محبت ان کے لیے یقینی ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے تعلق جوڑتے ہیں۔“ شعبہ کو «الْمُتَوَاصِلِينَ» اور «الْمُتَزَاوِرِينَ» کے الفاظ میں شک ہوا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7504
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، رجاله ثقات غير محمد بن سعد العوفي فهو صدوق، وقد توبع، وتقدَّم ذكر الخلاف قبل حديثين في صحة سماع أبي إدريس الخولاني من معاذ، وأما سماعه من عبادة بن الصامت فصحيح» [ترقيم الرساله 7504] [ترقيم الشركة 7412]
حدثناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا الربيع بن سليمان، حدّثنا بشر بن بكر، حدَّثني ابن جابر، حدّثنا عطاء الخُراسانيّ، قال: سمعتُ أبا إدريس الخَوْلاني يقول: دخلتُ مسجد حِمص، فجلستُ في حَلْقة كلُّهم يُحدِّث عن رسول الله ﷺ، وفيهم فتًى شاب إذا تكلَّم أنصت القومُ، وإذا حدث رجلًا منهم أنصتَ له، فتفرَّقوا ولم أعلم مَن ذلك الفتى، ثم ذكر الحديثَ بطوله (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7316 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ادریس خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حمص کی مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے حلقے میں بیٹھ گیا جہاں سب لوگ رسول اللہ ﷺ سے احادیث بیان کر رہے تھے، ان میں ایک نوجوان تھا کہ جب وہ بولتا تو سب لوگ ہمہ تن گوش ہو جاتے اور جب وہ کسی سے بات کرتا تو وہ شخص اسے پوری توجہ سے سنتا، پھر وہ لوگ منتشر ہو گئے اور مجھے اس وقت معلوم نہ ہو سکا کہ وہ نوجوان کون تھا، پھر انہوں نے مکمل طویل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7505
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن اختُلف في سماع أبي إدريس الخولاني من معاذ كما بيناه عند الرواية (7502)» [ترقيم الرساله 7505] [ترقيم الشركة 7413] [ترقيم العلميه 7316]
حدّثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهانيّ، حدّثنا أحمد بن يونس الضبيِّ بأصبهان، حدّثنا أبو بدر شُجَاع بن الوليد، قال: سمعتُ زياد بن خيثمة يُحدِّث عن أبيه، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله عبادًا ليسوا بأنبياءَ ولا شهداءَ، يَغبِطُهم [النبيُّون والشهداء] (1) يوم القيامة بقربهم ومجلسهم منه"، فجَثَا أعرابيٌّ على رُكبتيه، فقال: يا رسولَ الله، قوم ليسوا بأنبياءَ ولا شهداءَ، يَغبِطُهم الأنبياءُ والشهداءُ بقُربِهم من الله تعالى ومجلسِهم منه! صفهم لنا وجَلِّهم لنا، قال: "قومٌ من أفناءِ الناس من نُزَّاع القبائل تَصَافَوا في الله، وتَحابُّوا فيه، يضعُ اللَّهُ ﷿ لهم يوم القيامة منابرَ من نور، يَخافُ الناسُ ولا يَخافُون، هم أولياء الله ﷿ الذين لا خوفٌ عليهم ولا هم يَحزَنون" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7318 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ تو انبیاء ہیں اور نہ ہی شہداء، مگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے قرب اور مقام و مرتبہ کو دیکھ کر انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔“ اس پر ایک دیہاتی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ لوگ جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء، مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے قرب اور مقام کو دیکھ کر انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے! ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان فرمائیے اور ان کی حقیقت ہم پر واضح کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو مختلف خاندانوں اور بچھڑے ہوئے قبائل سے تعلق رکھنے کے باوجود صرف اللہ کی رضا کے لیے آپس میں دوست بن گئے اور اسی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے لیے نور کے منبر بچھائے گا، جب دوسرے لوگ خوفزدہ ہوں گے تو انہیں کوئی خوف نہیں ہوگا، یہی وہ اللہ کے دوست ہیں جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7506
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير شجاع بن الوليد فصدوق لا بأس به، ولا نعرف لزياد بن خيثمة» [ترقيم الرساله 7506] [ترقيم الشركة 7414] [ترقيم العلميه 7318]