کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قیامت کے دن "رحم" (رشتہ داری) حاضر ہو کر کلام کرے گی
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسين القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عفّان وحجَّاج بن مِنهال، قالا: حدثنا حماد سَلَمة، عن قَتَادةَ، عن بن أبي ثُمَامة (1) الثَّقفي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبيِّ ﷺ قال: "تَجيءُ الرَّحِمُ يوم القيامة لها حُجْنةٌ كحُجْنةِ المِعْزَل، فتتكلَّمُ بلسانٍ ذَلْقٍ طَلْقٍ، فَتَصِلُ من وَصَلَها وتقطعُ من قَطَعَها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7288 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7288 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن رحم (رشتہ داری) آئے گی جس کا ایک آنکڑا ہوگا جیسا کہ تکلے کا آنکڑا ہوتا ہے، پھر وہ فصیح و بلیغ زبان میں کلام کرے گی، پس وہ اس سے جڑ جائے گی جس نے اسے (دنیا میں) جوڑا تھا اور اسے کاٹ دے گی جس نے اسے کاٹا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا موسى بن سهل بن كثير، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، حدثنا عيينة بن عبد الرحمن بن جَوْشَن الغَطَفاني، حدثني أبي، عن أبي بَكْرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ما مِن ذنبٍ أجدَرُ أن يُعجِّلَ الله لصاحبه العقوبةَ في الدنيا، مع ما يَدَّخِرُ له في الآخرة، من البَغْي وقطيعةِ الرَّحِم" (3). وقد رواه شُعبة عن عُيَينة بن عبد الرحمن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7289 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7289 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بغاوت اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے کہ جس کا ارتکاب کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا میں جلد سزا دے، اس سزا کے ساتھ جو اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر رکھی ہے۔“
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، حدّثنا عَبْدان الأهوازيّ، حدّثنا معمر بن سهل، حدّثنا عيسى بن يونس، حدّثنا شُعبة، عن عُيَينة بن عبد الرحمن، قال: سمعتُ أبي يحدّث عن أبي بَكْرة الثقفيّ، أن النبيّ ﷺ قال: "ما مِن ذنبٍ أَحْرى وأجدرُ أن يُعجِّلَ الله تعالى لصاحبه فيه العقوبةَ في الدنيا، مع ما يَدَّخِرُ له في الآخرة، من قَطيعةِ الرَّحِم والبَغْي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7290 - حذفه الذهبي من التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7290 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بغاوت اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ اس لائق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا دنیا میں جلد دے دے، اس عذاب کے ساتھ جو اس نے آخرت میں اس کے لیے سنبھال رکھا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔