کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو اپنے رزق میں وسعت چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن عبيد الله بن زَحْر، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن عُقْبة بن عامر قال: لقيتُ رسولَ الله ﷺ فَبَدَرتُه فأخذتُ بيده، وبَدَرَني فأخذ بيدي، فقال: "يا عقبةُ، ألا أُخبرك بأفضلِ أخلاقِ أهل الدنيا والآخرة؟ تَصِلُ من قَطَعَك، وتُعطي مَن حَرَمَك، وتَعفُو عمن ظلمَك، ألا ومن أراد أن يُمَدَّ في عمره ويُبسَطَ في رزقِه، فليَصِلْ ذا رَحِمِه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7285 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7285 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی تو میں نے سبقت کر کے آپ کا ہاتھ تھام لیا، اور آپ ﷺ نے بھی سبقت کر کے میرا ہاتھ تھام لیا، پھر فرمایا: ”اے عقبہ! کیا میں تمہیں دنیا اور آخرت کے بہترین اخلاق کی خبر نہ دوں؟ وہ یہ ہیں کہ جو تم سے تعلق توڑے تم اسے جوڑو، جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو، اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کر دو؛ خبردار! جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی عمر لمبی کی جائے اور اس کے رزق میں کشادگی کی جائے، تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔“
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان البزَّاز ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو بكر عبيد الله (1) بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثني معاوية بن [أبي] (2) مُزرِّد، حدثني عمِّي أبو الحُباب سعيد بن يَسَار، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول: "إِنَّ الله ﷿ لما فَرَغَ من الخلق، قامت الرَّحِمُ فَأَخَذَت بحَقْو الرحمن، فقال: مَهْ، فقالت: هذا مَقامُ العائذ بك من القَطيعة، فقال: أَتَرضَيْنَ أَن أَصِلَ من وَصَلَك، وأَقْطعَ من قَطَعَك"، اقرؤُوا إن شئتم ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ إلى قوله: ﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾ [محمد: 22 - 24] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7286 - ذا في البخاري
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7286 - ذا في البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ عزوجل جب مخلوق کی تخلیق سے فارغ ہوا تو رحم (رشتہ داری) کھڑی ہوئی اور اللہ کی پناہ طلب کی، اللہ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ، اس نے عرض کیا: یہ اس شخص کا مقام ہے جو رشتہ داری ٹوٹنے سے آپ کی پناہ چاہتا ہے، اللہ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ میں اس کو (اپنی رحمت سے) جوڑوں جو تجھے جوڑے، اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے؟“ (آپ ﷺ نے فرمایا) اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ سے ﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾ تک [سورة محمد: 22-24]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حدثنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا شُعبة. وأخبرني أحمد بن موسى الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنّى ومحمد بن بشّار قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، قال: سمعتُ محمد بن عبد الجبار يحدِّث عن محمد بن كعب، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال: "إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنةٌ من الرحمن، تقول: يا ربَّ إِنِّي قُطِعتُ، إِنِّي أُسِيءَ إِليَّ يا ربِّ، فيُجيبُها ربُّها فيقول: ألا تَرضَيْنَ أن أَصِلَ من وَصَلَكِ، وأقطعَ من قَطَعَكِ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7287 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7287 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک رحم (رشتہ داری) رحمن کی ایک شاخ ہے، وہ عرض کرتی ہے: اے میرے رب! بے شک میرا تعلق توڑ دیا گیا، اے میرے رب! میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا، تو اس کا رب اسے جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ میں اسے جوڑوں جو تجھے جوڑے، اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔