المستدرك على الصحيحين
كتاب البر والصلة— نیکی اور بھلائی کے کام
يَجِيءُ الرَّحِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَتَكَلَّمُ باب: قیامت کے دن "رحم" (رشتہ داری) حاضر ہو کر کلام کرے گی
حدیث نمبر: 7476
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا موسى بن سهل بن كثير، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، حدثنا عيينة بن عبد الرحمن بن جَوْشَن الغَطَفاني، حدثني أبي، عن أبي بَكْرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ما مِن ذنبٍ أجدَرُ أن يُعجِّلَ الله لصاحبه العقوبةَ في الدنيا، مع ما يَدَّخِرُ له في الآخرة، من البَغْي وقطيعةِ الرَّحِم" (3). وقد رواه شُعبة عن عُيَينة بن عبد الرحمن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7289 - حذفه الذهبي من التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بغاوت اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے کہ جس کا ارتکاب کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا میں جلد سزا دے، اس سزا کے ساتھ جو اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر رکھی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل موسى بن سهل، وقد توبع. وأخرجه أحمد (34/ 20398)، وأبو داود (4902)، وابن ماجه (4211)، والترمذيّ (2511) من طرق عن إسماعيل ابن علية، بهذا الإسناد. وقال الترمذيّ: حديث صحيح.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، البتہ یہ سند موسیٰ بن سہل کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (34/ 20398)، ابو داؤد (4902)، ابن ماجہ (4211) اور ترمذی (2511) نے مختلف طرق سے اسماعیل ابن علیہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے۔
وسلف برقم (3399) من طريق عبد الله بن المبارك عن عيينة بن عبد الرحمن.
حوالہ / مصدر: یہ روایت نمبر (3399) کے تحت عبد اللہ بن المبارک عن عیینہ بن عبد الرحمن کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، البتہ یہ سند موسیٰ بن سہل کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (34/ 20398)، ابو داؤد (4902)، ابن ماجہ (4211) اور ترمذی (2511) نے مختلف طرق سے اسماعیل ابن علیہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے۔
وسلف برقم (3399) من طريق عبد الله بن المبارك عن عيينة بن عبد الرحمن.
حوالہ / مصدر: یہ روایت نمبر (3399) کے تحت عبد اللہ بن المبارک عن عیینہ بن عبد الرحمن کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7476 سے ماخوذ ہے۔