المستدرك على الصحيحين
كتاب البر والصلة— نیکی اور بھلائی کے کام
يَجِيءُ الرَّحِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَتَكَلَّمُ باب: قیامت کے دن "رحم" (رشتہ داری) حاضر ہو کر کلام کرے گی
حدیث نمبر: 7477
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، حدّثنا عَبْدان الأهوازيّ، حدّثنا معمر بن سهل، حدّثنا عيسى بن يونس، حدّثنا شُعبة، عن عُيَينة بن عبد الرحمن، قال: سمعتُ أبي يحدّث عن أبي بَكْرة الثقفيّ، أن النبيّ ﷺ قال: "ما مِن ذنبٍ أَحْرى وأجدرُ أن يُعجِّلَ الله تعالى لصاحبه فيه العقوبةَ في الدنيا، مع ما يَدَّخِرُ له في الآخرة، من قَطيعةِ الرَّحِم والبَغْي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7290 - حذفه الذهبي من التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بغاوت اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ اس لائق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا دنیا میں جلد دے دے، اس عذاب کے ساتھ جو اس نے آخرت میں اس کے لیے سنبھال رکھا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. عيسى بن يونس هو ابن أبي إسحاق السبيعي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: عیسیٰ بن یونس دراصل (مشہور راوی) ابو اسحاق السبیعی کے پوتے (ابن ابی اسحاق) ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (456) من طريق علي بن الجعد، عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (456) نے علی بن الجعد کے طریق سے، شعبہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: عیسیٰ بن یونس دراصل (مشہور راوی) ابو اسحاق السبیعی کے پوتے (ابن ابی اسحاق) ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (456) من طريق علي بن الجعد، عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (456) نے علی بن الجعد کے طریق سے، شعبہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7477 سے ماخوذ ہے۔