کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: والد جنت کے دروازوں میں سے بہترین (درمیان والا) دروازہ ہے
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن قال: تزوَّج رجلٌ، فكَرِهَت أُمُّه ذلك، فجاء يسأل أبا الدرداء، فقال: أطِعِ المرأة، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "الوالدةُ أوسَطُ أبوابِ الجنَّة"، فأضِعْ ذلك أو احفَظْ (1). رواه شُعْبةُ عن عطاء بن السائب مفسَّرًا بالشرح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7251 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7251 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے شادی کی تو اس کی ماں نے اسے ناپسند کیا، وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس سوال کرنے آیا تو انہوں نے فرمایا: اپنی ماں کی اطاعت کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”والدہ جنت کے دروازوں میں سے سب سے بہترین درمیانی دروازہ ہے“، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس فضیلت کو ضائع کر دو یا اس کی حفاظت کرو۔
أخبَرناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن: أنَّ رجلًا أمَرَه أبَوَاه - أو أحدُهما - أن يُطلِّقَ امرأتَه، فجعل ألفَ محرَّر - أو قال: مئة محرَّر (2) - وماله هَدْيًا إن فَعَلَ، فأتى أبا الدرداء، فذكر أنه صلَّى الضُّحى ثم سأله فقال: أَوْفِ بنَذْرك، وبِرَّ والدَيكَ، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "الوالدُ أوسَطُ أبواب الجنَّة"، فإن شئتَ فحافِظْ على الباب أو اترُكْ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7252 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7252 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو اس کے والدین یا ان میں سے کسی ایک نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا، اس نے اس کام پر ایک ہزار یا سو غلام آزاد کرنے کی نذر مانی اور اپنا مال ہدیہ کرنے کا عہد کیا، پھر وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”والد جنت کے دروازوں میں سے سب سے بہترین درمیانی دروازہ ہے“، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس دروازے کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الحسن بن حَليم (4) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرني ابن أبي ذئب، حدثني خالي الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: كانت تحتي امرأةٌ تُعجبني، وكان عمرُ يكرهُها، فقال لي: طلِّقْها، فأَبيتُ، فأتى عمرُ رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، إنَّ عند عبد الله بن عمر امرأةً قد كرهتُها، فأمرتُه أن يُطلِّقَها فأَبى، فقال لي رسول الله ﷺ: "يا عبدَ الله بنَ عمر، طلِّقِ امرأتَك، وأطِعْ أباك"، قال عبدُ الله: فطلَّقتُها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7253 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7253 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے نکاح میں ایک ایسی خاتون تھی جو مجھے پسند تھی، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو، میں نے انکار کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عورت ہے جسے میں ناپسند کرتا ہوں، میں نے اسے طلاق دینے کا کہا تو اس نے انکار کر دیا، تب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمر! اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور اپنے باپ کی اطاعت کرو“، عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اسے طلاق دے دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔