کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ نے والدین کے نافرمان پر اور زمین کی حدود مٹانے والے پر لعنت فرمائی ہے
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أحمد بن يحيى بن إسحاق الحُلْواني، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن العلاء، عن أبيه، عن هانئ مولى عليِّ بن أبي طالب، أنَّ عليًّا قال: يا هانئ، ماذا يقول الناسُ؟ قال: يَزعمون أنَّ عندك علمًا من رسول الله ﷺ لا تُظهِرُه، قال: دون الناس؟ قال: نعم، قال: أَرِني السيفَ، فأعطيتُه (2) السيفَ، فاستخرج منه صحيفةً فيها كتابٌ، قال: هذا ما سمعتُ من رسول الله ﷺ قال: قال رسول الله ﷺ: "لَعَنَ اللهُ مَن ذَبَحَ لغير الله، ومن تولَّى غير مَواليهِ ولعنَ اللهُ العاقَّ لوالديه، ولعنَ الله مُنتقِصَ مَنارِ الأرض" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7254 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7254 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اے ہانئ! لوگ کیا کہتے ہیں؟ ہانئ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس رسول اللہ ﷺ کا کوئی ایسا علم ہے جسے آپ ظاہر نہیں کرتے، علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا عام لوگوں سے ہٹ کر کوئی بات؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اپنی تلوار دکھاؤ، پس میں نے انہیں تلوار دی، انہوں نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا تھا: یہ وہ ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا، اور اس پر جو اپنے آقاؤں کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا بنائے، اور اللہ کی لعنت ہو والدین کے نافرمان پر، اور اللہ کی لعنت ہو زمین کے نشانات (حدود) مٹانے والے پر۔“
أخبرني أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا شُعبة، عن عطاء عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ ﷺ يُبايعُه على الهجرة [فقال: إنِّي جئت أبايعُك على الهجرة] (1) وتركتُ أبويَّ يبكيانِ، فقال: "ارجِعْ إليهما، فأضحِكْهما كما أبكيتَهما" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس ہجرت پر بیعت کرنے آیا اور عرض کیا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں اور میں اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس چلے جاؤ، پس انہیں اسی طرح ہنساؤ جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح وإبراهيم بن عصمة، قالا: حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا سعيد بن أبي مريم حدثنا محمد بن هلال، حدثني سعد بن إسحاق كَعب بن عُجْرة، عن [أبيه] عن (3) كعب بن عُجْرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "احْضُرُوا المنبرَ"، فحضرنا، فلمَّا ارتقى درجةً قال: "آمِين"، فلمَّا ارتقى الدرجةَ الثانية قال "آمِين"، فلمَّا ارتقى الدرجةَ الثالثة قال: "آمِين"، فلما نزل، قلنا: يا رسول الله، لقد سمعنا منكَ اليوم شيئًا ما كنَّا نسمعُه؟! قال: "إنَّ جبريلَ ﵇ عَرَضَ لي، فقال: بَعُدَ مَن أدرَكَ رمضانَ فلم يُغفَرْ له، قلتُ: آمِين، فلما رَقِيتُ الثانيةَ قال: بَعُدَ مَن ذُكِرتَ عنده فلم يُصلِّ عليك، قلتُ: آمين، فلما رَقِيتُ الثالثة قال: بَعُدَ مَن أدرك أبَويهِ الكبرُ عنده أو أحدَهما، فلم يُدخِلاه الجنَّةَ، قلتُ: آمِين" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7256 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7256 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”منبر کے پاس حاضر ہو جاؤ“، پس ہم حاضر ہو گئے، جب آپ ﷺ نے منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا: «آمِين»، جب دوسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: «آمِين»، جب تیسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: «آمِين»، جب آپ منبر سے اترے تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام میرے سامنے آئے اور انہوں نے کہا: وہ شخص ہلاک و برباد ہو جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہو سکی، میں نے کہا: آمین، جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو انہوں نے کہا: وہ شخص ہلاک و برباد ہو جس کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے، میں نے کہا: آمین، جب میں تیسری سیڑھی پر چڑھا تو انہوں نے کہا: وہ شخص ہلاک و برباد ہو جس کے پاس اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچے اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکے، میں نے کہا: آمین۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔