المستدرك على الصحيحين
كتاب البر والصلة— نیکی اور بھلائی کے کام
الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ باب: والد جنت کے دروازوں میں سے بہترین (درمیان والا) دروازہ ہے
حدیث نمبر: 7439
أخبَرناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن: أنَّ رجلًا أمَرَه أبَوَاه - أو أحدُهما - أن يُطلِّقَ امرأتَه، فجعل ألفَ محرَّر - أو قال: مئة محرَّر (2) - وماله هَدْيًا إن فَعَلَ، فأتى أبا الدرداء، فذكر أنه صلَّى الضُّحى ثم سأله فقال: أَوْفِ بنَذْرك، وبِرَّ والدَيكَ، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "الوالدُ أوسَطُ أبواب الجنَّة"، فإن شئتَ فحافِظْ على الباب أو اترُكْ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7252 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو اس کے والدین یا ان میں سے کسی ایک نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا، اس نے اس کام پر ایک ہزار یا سو غلام آزاد کرنے کی نذر مانی اور اپنا مال ہدیہ کرنے کا عہد کیا، پھر وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”والد جنت کے دروازوں میں سے سب سے بہترین درمیانی دروازہ ہے“، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس دروازے کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) المثبت من (م)، وتحرَّف في (ز) و (ص) إلى: ألف محررًا ومال مئة محرر.
فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (م) سے متن ثابت کیا گیا ہے، جبکہ (ز) اور (ص) میں یہ تحریف ہو کر "ایک ہزار آزاد کردہ" اور "ایک سو آزاد کردہ کا مال" ہو گیا ہے۔
(3) رجاله ثقات كسابقه.
درجۂ حدیث: (3) اس کے رجال بھی پچھلی سند کی طرح ثقہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (21717)، وابن ماجه (2089) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (21717/36) اور ابن ماجہ (2089) نے محمد بن جعفر کے طریق سے، شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (م) سے متن ثابت کیا گیا ہے، جبکہ (ز) اور (ص) میں یہ تحریف ہو کر "ایک ہزار آزاد کردہ" اور "ایک سو آزاد کردہ کا مال" ہو گیا ہے۔
(3) رجاله ثقات كسابقه.
درجۂ حدیث: (3) اس کے رجال بھی پچھلی سند کی طرح ثقہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (21717)، وابن ماجه (2089) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (21717/36) اور ابن ماجہ (2089) نے محمد بن جعفر کے طریق سے، شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7439 سے ماخوذ ہے۔