حدیث نمبر: 7440
أخبرني الحسن بن حَليم (4) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرني ابن أبي ذئب، حدثني خالي الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: كانت تحتي امرأةٌ تُعجبني، وكان عمرُ يكرهُها، فقال لي: طلِّقْها، فأَبيتُ، فأتى عمرُ رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، إنَّ عند عبد الله بن عمر امرأةً قد كرهتُها، فأمرتُه أن يُطلِّقَها فأَبى، فقال لي رسول الله ﷺ: "يا عبدَ الله بنَ عمر، طلِّقِ امرأتَك، وأطِعْ أباك"، قال عبدُ الله: فطلَّقتُها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7253 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے نکاح میں ایک ایسی خاتون تھی جو مجھے پسند تھی، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو، میں نے انکار کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عورت ہے جسے میں ناپسند کرتا ہوں، میں نے اسے طلاق دینے کا کہا تو اس نے انکار کر دیا، تب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمر! اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور اپنے باپ کی اطاعت کرو“، عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اسے طلاق دے دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7440
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «إسناده جيد،من أجل الحارث بن عبد الرحمن أبو الموجه هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة بن الحارث العامري» [ترقيم الرساله 7440] [ترقيم الشركة 7349] [ترقيم العلميه 7253]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حكيم.
فنی نکتہ / علّت: (4) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "حکیم" ہو گیا ہے۔
(1) إسناده جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن أبو الموجه هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة بن الحارث العامري
درجۂ حدیث: (1) حارث بن عبدالرحمٰن کی وجہ سے اس کی سند جید ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الموَجَّہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری ہیں، عبدان سے مراد عبداللہ بن عثمان المروزی ہیں، عبداللہ سے مراد ابن المبارک ہیں، اور ابن ابی ذئب سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن المغیرہ بن الحارث العامری ہیں۔
وأخرجه الترمذي (1189) عن أحمد بن محمد، عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے ترمذی (1189) نے احمد بن محمد سے، انہوں نے عبداللہ بن المبارک سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 8/ (4711) و 9 / (5011) و (5144) و 10 / (6470)، وأبو داود (5138)، وابن ماجه (2088)، والنسائي (5631)، وابن حبان (426) و (427) من طرق عن ابن أبي ذئب به. وقال الترمذي: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8/ 4711، 9/ 5011، 5144 اور 10/ 6470)، ابو داؤد (5138)، ابن ماجہ (2088)، نسائی (5631) اور ابن حبان (426 اور 427) نے مختلف طرق سے ابن ابی ذئب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7440 سے ماخوذ ہے۔