کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جذام (کوڑھ) کے مریض کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا کھانا
أخبرني أزهر بن حمدون المنادي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يونس بن محمد المؤدِّب، حدثنا مُفضَّل بن فَضَالة، عن حبيب بن الشهيد، عن محمد بن المُنكِدر، عن جابر: أنَّ النبيَّ ﷺ أخذَ بيدِ مجذومٍ فوضعها معه في القَصْعة، ثم قال: "باسمِ الله، ثقةً بالله وتوكُّلًا عليه" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7196 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7196 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مجذوم (کوڑھ کے مریض) کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں رکھا، پھر فرمایا: «بِاسْمِ اللَّهِ، ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہوئے (کھاتا ہوں)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو جعفر (1) محمد بن جعفر المَدائني، حدثنا منصور بن أبي الأسود، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن باتَ وفي يدِه غَمَرٌ وأصابه شيءٌ، فلا يَلُومَنَّ إلَّا نفسَه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں سو جائے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی (یا گوشت کی بو) لگی ہو اور اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے، تو وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔“
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنهال، حدثنا حمادٌ، عن سهيل، عن أبي صالح، عن أبي هريرة أن رسولَ الله ﷺ قال: "مَن بات وفي يدِه غَمَرٌ فأصابه شيءٌ، فلا يلومنَّ إِلَّا نفسَه" (3). فإذا سهيلٌ لم يسمعه من أبيه، إنما سمعه من الأعمش:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں رات گزارے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی لگی ہو اور اسے (نیند میں کسی موذی جانور کے ذریعے) کوئی تکلیف پہنچے، تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“
أخبرَناه أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، قال: قُرِئ على عبد الملك ابن محمد الرَّقَاشي وأنا أسمع، حدثنا أبو همَّام محمد بن مُحبَّب (1)، حدثنا إبراهيم ابن طَهْمان عن سهيل بن أبي صالح، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن بات وفي يده غَمَرٌ، فَعَرَضَ له عارضٌ، فلا يَلُومَنَّ إِلَّا نفسَه" (2). هذه الأسانيد كلها صحيحةٌ، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں رات گزارے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی لگی ہو، پھر اسے کوئی حادثہ یا تکلیف پیش آ جائے، تو وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔“
یہ تمام اسانید صحیح ہیں لیکن شیخین نے انہیں روایت نہیں کیا۔
یہ تمام اسانید صحیح ہیں لیکن شیخین نے انہیں روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهران حدثنا أبي، حدثنا أحمد بن مَنِيع، حدثنا يعقوب بن الوليد المدني، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الشيطانَ حسَّاسٌ لحَّاسٌ، فاحذَرُوه على أنفسِكم مَن بات وفي يدِه غَمَرٌ فأصابه شيءٌ، فلا يَلُومَنَّ إِلَّا نفسَه" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7200 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7200 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک شیطان بہت حساس اور چاٹنے والا ہے، پس تم اس سے اپنی جانوں کے متعلق ہوشیار رہو، جو شخص اس حال میں سو جائے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی لگی ہو اور اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے، تو وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔“