حدیث نمبر: 7379
أخبرني أزهر بن حمدون المنادي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يونس بن محمد المؤدِّب، حدثنا مُفضَّل بن فَضَالة، عن حبيب بن الشهيد، عن محمد بن المُنكِدر، عن جابر: أنَّ النبيَّ ﷺ أخذَ بيدِ مجذومٍ فوضعها معه في القَصْعة، ثم قال: "باسمِ الله، ثقةً بالله وتوكُّلًا عليه" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7196 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مجذوم (کوڑھ کے مریض) کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں رکھا، پھر فرمایا: «بِاسْمِ اللَّهِ، ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہوئے (کھاتا ہوں)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7379
درجۂ حدیث محدثین: حديث منكر
تخریج حدیث «حديث منكر، وهذا إسناد ضعيف، مفضل بن فضالة ضعيف، وقد خالف من هو أوثق منه كما سيأتي. وقال ابن عدي في "الكامل": لم أر في حديثه أنكر من هذا الحديث الذي أمليته.» [ترقيم الرساله 7379] [ترقيم الشركة 7292] [ترقيم العلميه 7196]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث منكر، وهذا إسناد ضعيف، مفضل بن فضالة ضعيف، وقد خالف من هو أوثق منه كما سيأتي. وقال ابن عدي في "الكامل": لم أر في حديثه أنكر من هذا الحديث الذي أمليته.
درجۂ حدیث: یہ حدیث منکر ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مفضل بن فضالہ ضعیف راوی ہے، اور اس نے اپنے سے زیادہ ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔ ابن عدی "الکامل" میں کہتے ہیں: "میں نے اس کی روایات میں اس حدیث سے زیادہ منکر کوئی روایت نہیں دیکھی جو میں نے املاء کرائی ہے"۔
وأخرجه أبو داود (3925)، وابن ماجه (3542)، والترمذي (1817)، وابن حبان (6120) من طرق عن يونس بن محمد المؤدب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (3925)، ابن ماجہ (3542)، ترمذی (1817) اور ابن حبان (6120) نے یونس بن محمد المؤدب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج ابن سعد في "الطبقات" 4/ 83، وابن أبي الدنيا في "إصلاح المال" (321)، والعقيلي في "الضعفاء" 4/ 62 كما في حاشيته، وأبو نعيم في "الحلية" 1/ 200 من طريق شعبة، والطبري في مسند علي من "تهذيب الآثار" ص 29 من طريق سفيان بن حبيب، كلاهما عن حبيب بن الشهيد، عن عبد الله بن بريدة قال: كان سلمان يعمل بيديه ثم يشتري طعامًا، ثم يبعث إلى المجذومين فيأكلون معه. قال العقيلي: هذا أصل الحديث، وهذه الروايةُ أولى.
حوالہ / مصدر: ابن سعد نے "الطبقات" (4/ 83)، ابن ابی الدنیا نے "اصلاح المال" (321)، عقیلی نے "الضعفاء" (4/ 62)، اور ابو نعیم نے "الحلية" (1/ 200) میں شعبہ کے طریق سے؛ نیز طبری نے "تہذیب الآثار" (ص 29) میں سفیان بن حبیب کے طریق سے، یہ دونوں حبیب بن الشہید عن عبد اللہ بن بریدہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے محنت مزدوری کرتے، کھانا خریدتے اور پھر جزام کے مریضوں کو بلا کر ان کے ساتھ کھانا کھاتے۔
اہم نکتہ: عقیلی فرماتے ہیں کہ یہی اس حدیث کی اصل ہے اور یہی روایت زیادہ بہتر (اولیٰ) ہے۔
وقال الترمذي عقب الحديث (1817): وقد روى شعبة هذا الحديث عن حبيب بن الشهيد عن ابن بريدة: أن عمر أخذ بيد مجذوم … وحديث شعبة أشبه عندي وأصحُّ.
فنی نکتہ / علّت: امام ترمذی حدیث (1817) کے بعد فرماتے ہیں: شعبہ نے یہ حدیث حبیب بن الشہید عن ابن بریدہ کے طریق سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجذوم کا ہاتھ پکڑا... اور شعبہ کی حدیث میرے نزدیک زیادہ قرینِ صواب اور زیادہ صحیح ہے۔
وقد صحَّ ما يخالف هذا الحديث، فقد أخرج أحمد 32 (19468)، ومسلم (2231) - واللفظ له من طريق عمرو بن الشريد، عن أبيه قال: كان في وفد ثقيف رجلٌ مجذوم، فأرسل إليه النبي ﷺ: "إنا قد بايَعْناك فارجع".
اہم نکتہ: اس حدیث کے مخالف (صحیح روایت) ثابت ہے، چنانچہ امام احمد (32/ 19468) اور امام مسلم (2231 - اور الفاظ انہی کے ہیں) نے عمرو بن الشرید عن ابیہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ بنو ثقیف کے وفد میں ایک مجذوم شخص تھا، تو نبی ﷺ نے اسے کہلوایا: "ہم نے تمہاری بیعت قبول کر لی ہے، اب تم واپس چلے جاؤ"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7379 سے ماخوذ ہے۔