المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
الْأَكْلُ مَعَ مَجْذُومٍ فِي قَصْعَةٍ باب: جذام (کوڑھ) کے مریض کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا کھانا
حدیث نمبر: 7383
حدَّثَناه أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهران حدثنا أبي، حدثنا أحمد بن مَنِيع، حدثنا يعقوب بن الوليد المدني، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الشيطانَ حسَّاسٌ لحَّاسٌ، فاحذَرُوه على أنفسِكم مَن بات وفي يدِه غَمَرٌ فأصابه شيءٌ، فلا يَلُومَنَّ إِلَّا نفسَه" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7200 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک شیطان بہت حساس اور چاٹنے والا ہے، پس تم اس سے اپنی جانوں کے متعلق ہوشیار رہو، جو شخص اس حال میں سو جائے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی لگی ہو اور اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے، تو وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) موضوع كما قال الذهبي في "تلخيصه": يعقوب بن الوليد المدني كذاب يضع الحديث. وسلف برقم (7305).
درجۂ حدیث: یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: جیسا کہ امام ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا ہے: یعقوب بن الولید المدنی کذاب (جھوٹا) ہے اور حدیثیں گھڑتا تھا۔
حوالہ / مصدر: یہ پہلے بھی حدیث نمبر (7305) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: جیسا کہ امام ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا ہے: یعقوب بن الولید المدنی کذاب (جھوٹا) ہے اور حدیثیں گھڑتا تھا۔
حوالہ / مصدر: یہ پہلے بھی حدیث نمبر (7305) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7383 سے ماخوذ ہے۔