أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا نُعيم بن حمَّاد، حدثنا أبو أسامة، حدثنا حماد بن السائب، حدثنا إسحاق بن عبد الله بن الحارث، قال: سمعتُ ابنَ عباس يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "ذَكاةُ كلِّ مَسْكٍ دِباغُه"، فقلت له: إِنَّا نسافرُ مع هذه الأعاجم، ومعهم قُدُور يَطبُخون فيها المَيْتةَ ولحمَ الخنازير، فقال: "ما كان من فَخَّارٍ فاغلُوا فيها الماءَ ثم اغسِلوها، وما كان من النُّحاس فاغسِلوه، فالماءُ طَهُورٌ لكلِّ شيء" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7153 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7153 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر کھال کی پاکیزگی اس کی دباغت (رنگنے) میں ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ان غیر عرب لوگوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں جن کے پاس ایسے دیگچے ہوتے ہیں جن میں وہ مردار اور خنزیر کا گوشت پکاتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ مٹی کے برتن ہوں تو ان میں پانی ابال کر انہیں دھو لیا کرو، اور اگر تانبے کے ہوں تو انہیں (عام طریقے سے) دھو لو، کیونکہ پانی ہر چیز کے لیے پاک کرنے والا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا حَرمَلة بن عبد العزيز بن الربيع بن سَبْرة الجُهَني، حدثني أبي عبد العزيز بن الربيع بن سَبْرة، عن أبيه، عن جَدِّه قال: قال رسول الله ﷺ لأصحابه حين نَزَلَ الحِجْرَ: "من عَمِلَ من هذا الماء [طعامًا] (2) فليُلْقِه"، قال: فمنهم من عَجَنَ العجين، ومنهم من حاسَ الحَيْسَ فَأَلْقَوه (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7154 - وعلى شرط واحد منهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7154 - وعلى شرط واحد منهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سبیرہ جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت اپنے صحابہ سے فرمایا جب وہ مقامِ حجر میں اترے تھے: ”جس نے بھی اس (بستی کے) پانی سے کچھ (کھانا) بنایا ہے وہ اسے پھینک دے“، راوی کہتے ہیں: تو بعض نے گوندھا ہوا آٹا پھینک دیا اور بعض نے «حَيْس» (کھجور اور مکھن کا حلوا) تیار کیا ہوا تھا وہ پھینک دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔