حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب وإسحاق بن الحسن، قالا: حدثنا عفّان، حدثنا أبو عَوَانة، عن سِماك بن حرب، عن جابر بن سَمُرة قال: فُلِتَ (1) بغلٌ عند رجلٍ، فأتى رسولَ الله ﷺ يستفتيه، فزعم جابر بن سَمُرة: أنَّ رسول الله ﷺ قال لصاحبها: "أما لك ما يُغنيكَ عنها؟ " قال: لا، قال: "اذهَبْ فكُلْها" (2). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7155 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7155 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کا جانور مرنے کے قریب ہوا تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں فتویٰ لینے حاضر ہوا، سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے مالک سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو تجھے اس سے بے نیاز کر دے؟“ اس نے عرض کیا: جی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر جاؤ اور اسے کھا لو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا الأوزاعي، حدثنا حسان بن عطيّة، عن أبي واقدٍ اللَّيثي قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إنَّا بأرضٍ مَخْمَصةٍ، فما يَحِلُّ لنا من المَيْتة؟ قال: "إذا لم تَصطَبِحوا، ولم تَغْتبِقوا، ولم تَحتَفِئوا (1) بها بَقْلًا، فشأنَكم بها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7156 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7156 - فيه انقطاع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم قحط زدہ زمین میں ہیں، تو ہمارے لیے مردار میں سے کتنا حصہ حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس صبح اور شام پینے کے لیے (دودھ وغیرہ) نہ ہو اور نہ ہی تم (زمین سے) کوئی سبزی یا ساگ پات حاصل کر سکو، تو پھر تمہارے لیے یہ (مردار) جائز ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق إملاءً، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى. وأخبرني أحمد بن محمد بن صالح السَّمَرقندي، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خارجة، عن ثَور بن يزيد، عن راشد بن سعد، عن سَمُرة بن جُندب، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "إذا رَوَّيْتَ أهلَك من اللَّبن غَبُوقًا، فاجتنِبْ ما نهى اللهُ عنه من مَيْتَةٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله أصلٌ بإسناد صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7157 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله أصلٌ بإسناد صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7157 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنے گھر والوں کو شام کے وقت دودھ پلا کر سیر کر سکو، تو پھر اللہ کی حرام کردہ چیزوں یعنی مردار سے اجتناب کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی اصل شیخین کی شرط پر صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی اصل شیخین کی شرط پر صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا أبي، عن أبيه، حدثنا ابن عَوْن، قال: قرأتُ عند الحسن كتابَ سَمُرة بن جندب إلى بَنِيه، وفيه: إِنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "يُجرئُ من الضَّرُورة - أو الضارورة - غَبُوقٌ أو صَبُوح" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7158 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7158 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا وہ خط پڑھا جو انہوں نے اپنے بیٹوں کے نام لکھا تھا، اس میں درج تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شدید ضرورت (اضطراری حالت) میں صبح یا شام کا (ایک وقت کا) مشروب مردار کے استعمال سے بچا لیتا ہے۔“