المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
ذَكَاةُ كُلِّ مَسْكٍ دِبَاغُهُ باب: ہر کھال کی پاکیزگی اس کی دباغت (رنگنے) میں ہے
حدیث نمبر: 7331
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا حَرمَلة بن عبد العزيز بن الربيع بن سَبْرة الجُهَني، حدثني أبي عبد العزيز بن الربيع بن سَبْرة، عن أبيه، عن جَدِّه قال: قال رسول الله ﷺ لأصحابه حين نَزَلَ الحِجْرَ: "من عَمِلَ من هذا الماء [طعامًا] (2) فليُلْقِه"، قال: فمنهم من عَجَنَ العجين، ومنهم من حاسَ الحَيْسَ فَأَلْقَوه (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7154 - وعلى شرط واحد منهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا سبیرہ جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت اپنے صحابہ سے فرمایا جب وہ مقامِ حجر میں اترے تھے: ”جس نے بھی اس (بستی کے) پانی سے کچھ (کھانا) بنایا ہے وہ اسے پھینک دے“، راوی کہتے ہیں: تو بعض نے گوندھا ہوا آٹا پھینک دیا اور بعض نے «حَيْس» (کھجور اور مکھن کا حلوا) تیار کیا ہوا تھا وہ پھینک دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) لم يرد في نسخنا الخطية، وأثبتناه من المطبوع ومصدر التخريج.
نوٹ / توضیح: یہ حصہ ہمارے قلمی نسخوں میں موجود نہیں تھا، ہم نے اسے مطبوعہ نسخوں اور مصدرِ تخریج سے ثابت کیا ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد العزيز بن الربيع. وأخرجه الطحاوي في "شرح المشكل" (3750) عن محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبد العزیز بن الربیع کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی نے "شرح مشکل الآثار" (3750) میں محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسلف برقم (4112).
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (4112) پر گزر چکی ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ حصہ ہمارے قلمی نسخوں میں موجود نہیں تھا، ہم نے اسے مطبوعہ نسخوں اور مصدرِ تخریج سے ثابت کیا ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد العزيز بن الربيع. وأخرجه الطحاوي في "شرح المشكل" (3750) عن محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبد العزیز بن الربیع کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی نے "شرح مشکل الآثار" (3750) میں محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسلف برقم (4112).
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (4112) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7331 سے ماخوذ ہے۔