کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: دنیا میں زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والے قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو رَبيعة فَهْد بن عوف، حدثنا فضل بن أبي الفضل الأزدي، أخبرني عمر بن موسى، أخبرني علي بن الأقمَر، عن أبي جُحَيفة قال: أكلتُ ثَريدةً من خُبز بُرٍّ بلحم سَمين، ثم أتيتُ النبيَّ ﷺ فجعلتُ أتجشَّأُ، فقال: "ما هذا؟! كُفَّ من جُشائِكَ، فإنَّ أكثرَ الناس في الدنيا شِبَعًا، أكثرُهم في الآخرة جُوعًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7140 - فهد بن عوف قال المديني كذاب وعمر هالك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7140 - فهد بن عوف قال المديني كذاب وعمر هالك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے گندم کی روٹی اور فربہ گوشت کا ثرید کھایا، پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مجھے ڈکاریں آنے لگیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟! اپنی ڈکاریں روک کر رکھو، کیونکہ دنیا میں جو لوگ سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھاتے ہیں، وہی آخرت میں سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شُعبة قال: سمعت أبا إسرائيل يقول: سمعتُ جَعْدةَ يقول: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول، ورأى رجلًا مُسْمِنًا (1) فجعل النبي ﷺ يُومِئُ بيده إلى بَطْنِه ويقول: "لو كانَ هذا في غيرِ هذا، كان خيرًا له" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7141 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7141 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے ایک موٹے پیٹ والے شخص کو دیکھ کر اپنے ہاتھ سے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”کاش کہ یہ (چربی یا گوشت جو پیٹ پر ہے) اس کے علاوہ کسی اور جگہ (یعنی راہِ خدا میں مشقت کرنے میں) ہوتا تو اس کے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "ائتَدِموا بالزَّيت وادَّهِنوا به، فإنَّه من شجرةٍ مُبارَكة" (3).
هذا حديث صحيح، على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7142 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح، على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7142 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم زیتون کے تیل کو بطور سالن استعمال کرو اور اسے (بدن پر) لگایا کرو، کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے حاصل ہوتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجية، حدثنا عبد القدوس بن محمد بن عبد الكبير بن شعيب بن الحَبْحاب، حدثني محمد بن عبد الكبير، حدثني عمِّي عبد السلام بن شعيب، عن أبيه، عن أنس قال: أُتِيَ النبيُّ ﷺ بقَعْبٍ فيه لَبنٌ وعَسَلٌ (1)، فقال: "أُدْمَانِ في إناءٍ؟! لا آكلُه ولا أُحرِّمه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7143 - بل منكر واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7143 - بل منكر واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا جس میں دودھ اور شہد (ملا ہوا) تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ہی برتن میں دو سالن؟! میں اسے کھاؤں گا نہیں اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر (1) بن نصر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أبو هانئ الخَوْلاني، عن أبي علي الجَنْبي - وهو عمرو بن مالك - عن فَضَالة بن عُبيد، أنه سَمِع النبيَّ ﷺ يقول: "أفلَحَ مَن هُدِيَ إلى الإسلام، وكان عيشُه كَفَافًا، وقَنِعَ به" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7144 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7144 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”وہ شخص کامیاب ہو گیا جسے اسلام کی ہدایت نصیب ہوئی، اس کی زندگی کی گزر بسر بقدرِ ضرورت (کفاف) ہو اور وہ اس پر قناعت کر لے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔