حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا سليمان بن حرب وعمرو بن مرزوق، قالا: حدثنا يوسف بن عطيّة، حدثنا مَطَر الورَّاق، عن قَتَادة، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ كان يأخذُ الرُّطَبَ بيمينه، والبِطِّيخَ بيساره، فيأكلُ الرُّطَبَ بالبِطِّيخ، وكان أحبَّ الفاكهةِ إليه (4).
هذا حديث تفرَّد به يوسف بن عطيّة ولم يحتجابه، وإنما يُعرف هذا المتن بغير هذا اللفظ من حديث عائشة ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7137 - تفرد به يوسف
هذا حديث تفرَّد به يوسف بن عطيّة ولم يحتجابه، وإنما يُعرف هذا المتن بغير هذا اللفظ من حديث عائشة ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7137 - تفرد به يوسف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دائیں ہاتھ میں تازہ کھجوریں اور بائیں ہاتھ میں خربوزہ پکڑتے تھے، پھر آپ ﷺ تازہ کھجوروں کو خربوزے کے ساتھ ملا کر کھاتے تھے، اور یہ آپ ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ پھل تھا۔
اس حدیث کی روایت میں یوسف بن عطیہ منفرد ہیں اور شیخین نے ان سے احتجاج نہیں کیا، اور یہ متن ان الفاظ کے علاوہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی پہچانا جاتا ہے۔
اس حدیث کی روایت میں یوسف بن عطیہ منفرد ہیں اور شیخین نے ان سے احتجاج نہیں کیا، اور یہ متن ان الفاظ کے علاوہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی پہچانا جاتا ہے۔
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا أبو عبد الله محمد التَّيمي، وأبو الربيع سليمان بن داود العَتَكي ونصر بن علي الجَهْضمي، قالوا: حدثنا أبو زُكَير يحيى بن محمد بن قيس، قال: سمعتُ هشام بن عُرْوة يَذكُر عن أبيه، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "كلُوا البلحَ بالتمر، فإنَّ الشيطانَ إذا أكله ابن آدم غضبَ، وقال: بقيَ ابن آدمَ حتى أكلَ الجديدَ بالخَلَقِ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7138 - حديث منكر
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7138 - حديث منكر
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کچی کھجوروں کو پکی (خشک) کھجوروں کے ساتھ ملا کر کھایا کرو، کیونکہ جب ابن آدم اسے کھاتا ہے تو شیطان غصے میں آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ابن آدم (اتنی لمبی عمر تک) باقی رہا کہ اب وہ نئے کو پرانے کے ساتھ ملا کر کھانے لگا ہے۔“
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، قال: وأخبرني معاوية بن صالح، قال: سمعتُ يحيى بن جابر يحدِّث عن المِقدام بن مَعْدي كَرِبَ، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "ما وَعَى ابن آدم وعاءً شرًا من بطنٍ، حَسْبُ المسلمِ أُكُلاتٌ يُقِمنَ صُلْبَه، فإن كان لا مَحَالة فثُلثٌ لطعامِه، وثلثٌ لشرابِه، وثلثٌ لنَفَسِه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7139 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7139 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم نے اپنے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا، انسان کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں، لیکن اگر (زیادہ کھانا) ناگزیر ہو تو ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے (خالی) رکھنا چاہیے۔“