کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جنین کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذبیحہ ہی ہے (ماں کا ذبح ہونا اس کے لیے کافی ہے)
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزَيمة والحسن بن الفضل (ح) وأخبرنا إسماعيل بن علي الخُطَبي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ومحمد بن غالب؛ قالوا: حدثنا الحسن بن بشر بن سَلْم، حدثنا زهير، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ: "ذكاةُ الجَنينِ ذكاةُ أُمِّه" (1). تابعه من الثِّقات عُبيد الله بن أبي زياد القدَّاح المكي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنین (ماں کے پیٹ میں موجود بچے) کا ذبیحہ وہی ہے جو اس کی ماں کا ذبیحہ ہے۔“ (یعنی ماں کا شرعی طور پر ذبح ہونا اس کے پیٹ کے بچے کے لیے بھی کافی ہے)۔ اس حدیث کی متابعت ثقہ راویوں میں سے عبید اللہ بن ابی زیاد قدّاح مکی نے بھی کی ہے:
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا أبي ومحمد بن نُعيم وأحمد بن سَلَمة، قالوا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عتَّاب بن بَشير، حدثنا عبيد الله بن أبي زياد القدَّاح، عن أبي الزُّبير، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ قال: "ذكاةُ الجنينِ ذكاةُ أُمِّه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7109 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7109 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنین کا ذبح ہونا اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی ہے۔“
أخبَرنيهِ الحسين بن علي التميمي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى، حدثني إسحاق بن إبراهيم الحنظلي، فذكره (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وإنما يُعرف من حديث ابن أبي ليلى وحماد بن شعيب عن أبي الزُّبير (3). وقد رُوي بإسناد صحيح عن أبي هريرة:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وإنما يُعرف من حديث ابن أبي ليلى وحماد بن شعيب عن أبي الزُّبير (3). وقد رُوي بإسناد صحيح عن أبي هريرة:
حافظ طلحہ بابر
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ روایت ابن ابی لیلیٰ اور حماد بن شعیب کے واسطے سے ابو زبیر سے جانی جاتی ہے۔
حدَّثَناه أبو الوليد الفقيه، حدثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار، حدثنا يحيى بن سعيد الأُموي، حدثني أبي، عن عبد الله بن سعيد المَقبُري، عن جدِّه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ذكاةُ الجَنينِ ذكاةُ أمِّه" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنین کا ذبح ہونا اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی ہے۔“
فحدَّثَناه أبو الوليد حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا وهب بن بقيَّة، حدثنا محمد بن الحسن الواسطي، عن محمد بن إسحاق، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "ذكاةُ الجَنينِ إذا أشعَرَ ذكاةُ أمِّه، ولكنه يُذبَح حتى يَنْصابَّ (2) ما فيه من الدَّم" (3). هذا باب كبير مدارُه على طُرق عطيةَ عن أبي سعيد (1) لذلك، ولم يخرجاه. وربما توهَّم متوهِّمٌ أن حديث أبي أيوب صحيحٌ، وليس كذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7111 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7111 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنین کا ذبح ہونا اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی ہے بشرطیکہ اس کے بدن پر بال اگ آئے ہوں، تاہم اسے (الگ سے بھی) ذبح کر لینا چاہیے تاکہ اس کے اندر رکا ہوا خون بہہ جائے۔“ اس عظیم باب کا مدار عطیہ کی ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایات پر ہے، اسی لیے شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
فقد حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق وأحمد بن جعفر بن نصر الرازي في آخرين، قالوا: حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا عبد الله بن الجَهْم الرازي، حدثنا عبد الله بن العلاء بن شَيْبة، حدثنا شُعبة، عن ابن أبي ليلى، عن أخيه، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبي أيوب قال: قال رسول الله ﷺ: "ذكاةُ الجَنين ذكاةُ أمِّه" (2). وحديث [أبي] (1) الودّاك عن أبي سعيد تفرَّد به علّان (2)، وفيه زيادات [في] اللفظ، ولا تقوم به الحُجّة، ومن تأمَّل هذا الباب من أهل الصَّنعة قضى فيه العَجَبَ أنَّ الشيخين لم يخرجاه في "الصحيح".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7112 - ليس بصحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7112 - ليس بصحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنین کا ذبح ہونا اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی ہے۔“ ابو وداک کی ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت میں علان نامی راوی منفرد ہے اور اس کے الفاظ میں کچھ اضافے ہیں جن سے حجت قائم نہیں ہوتی، لیکن اس فن کے ماہرین جب اس باب کی احادیث پر مجموعی طور پر غور کرتے ہیں تو انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ شیخین نے اسے اپنی ”صحیح“ میں کیوں جگہ نہیں دی۔