کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اس آیت کا شانِ نزول کہ جسے اللہ نے حلال کیا وہ حلال ہے
أخبرني محمد بن علي (3) بن دُحيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا محمد بن شَريك المكي، عن عمرو بن دينار، عن أبي الشَّعثاء، عن ابن عباس قال: كان أهلُ الجاهلية يأكلون أشياءَ، ويتركون أشياءَ تقذُّرًا، فبعث الله تعالى نبيَّه ﷺ، وأنزلَ كتابَه وأحلَّ حلالَه، وحرَّم حرامَه، فما أحلَّ فهو حلالٌ، وما حَرَّمَ فهو حرامٌ، وما سكت [عنه] فهو عَفْوٌ؛ وتلا هذه الآية: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [الأنعام: 145] (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7113 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7113 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دورِ جاہلیت کے لوگ (اپنی پسند کے مطابق) کچھ چیزیں کھاتے تھے اور کچھ چیزوں کو ناپسندیدگی کی بنا پر چھوڑ دیتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتاب نازل کی، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام قرار دیا، پس جسے اللہ نے حلال کیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کیا وہ حرام ہے، اور جس چیز سے اللہ نے خاموشی اختیار فرمائی وہ معاف (یعنی مباح) ہے؛ اور انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ ”(اے نبی!) آپ کہہ دیں کہ جو وحی میری طرف آئی ہے اس میں میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو (کھانے والے پر) حرام ہو۔“ [سورة الأنعام: 145]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا القَعْنبي، حدثنا علي بن مُسهِر، عن داود بن أبي هند، عن مكحول، عن أبي ثعَلَبة الخُشَني قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ الله حدَّ حدودًا فلا تَعتدُوها، وفَرَضَ لكم فرائضَ فلا تُضيِّعوها، وحرَّمَ أشياءَ فلا تَنتهِكُوها، وترك أشياءَ من غير نسيانٍ من ربِّكم، ولكن رحمةً منه لكم، فاقبلوها ولا تَبحَثوا فيها" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7114 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7114 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے کچھ حدیں مقرر کی ہیں پس ان سے تجاوز نہ کرو، اور تمہارے لیے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں پس انہیں ضائع نہ کرو، اور کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے پس ان کی حرمت پامال نہ کرو، اور تمہارے رب نے بھولے بغیر محض تمہارے لیے رحمت کے طور پر کچھ چیزوں سے خاموشی اختیار فرمائی ہے، پس انہیں (بطورِ نعمت) قبول کرو اور ان کی (بلاوجہ) کھوج نہ لگاؤ۔“