أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا زياد بن الخليل التُّستَري، حدثنا هارون بن سعيد الأيْلي، حدثنا خالد بن نِزار، عن عمر بن قيس، عن الزُّهري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ، قال: "حَرِيمُ البئر العاديَّة خمسون ذراعًا، وحَرِيمُ البئر المُحْدَثة خمسةٌ وعشرون ذِراعًا" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قدیم کنویں کی حدِ حفاظت پچاس ہاتھ ہے اور نئے کھودے گئے کنویں کی حد پچیس ہاتھ ہے۔“
حدثنا إبراهيم بن عِصْمة العدل، حدثنا المسيَّب بن زهير، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا محمد بن الفُرات التميمي، قال: سمعتُ مُحاربَ بن دِثار، يقول: أخبرني عبد الله بن عمر، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول: "شاهدُ الزُّورِ لا تزولُ قدماه حتى يُوجِبَ اللهُ لهما النارَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7042 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7042 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جھوٹی گواہی دینے والے کے قدم (قیامت کے دن) اپنی جگہ سے ہلنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آگ واجب کر دے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا بشير بن سَلْمان (2) المؤذن، حدثنا سيّار أبو الحَكَم، عن طارق بن شِهاب، قال: كنَّا عند ابن مسعود فقال: قال رسولُ الله ﷺ: "إنَّ بينَ يدي الساعة تسليمَ الخاصّة (1)، وفُشُوَّ التجارة حتى تُعينَ المرأةُ زوجَها على التجارة، وقطعَ الأرحام، وظهورَ شهادةِ الزُّور، وكِتمانَ شهادة الحقِّ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7043 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7043 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے قریب صرف خاص لوگوں کو سلام کیا جائے گا (یعنی جان پہچان کی بنیاد پر)، تجارت اس قدر عام ہو جائے گی کہ عورت تجارت میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائے گی، رشتہ داریاں توڑی جائیں گی، جھوٹی گواہی عام ہو جائے گی اور سچی گواہی کو چھپایا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني محمد بن مُسلم، عن أيوب السَّختِياني، عن محمد بن سِيرِين، عن عائشة قالت: ما كان من شيء أبغضَ إلى رسول الله ﷺ من الكذب، وما جرَّبه (3) رسولُ الله ﷺ من أحد - وإن قلَّ - فيُخرجُ له من نفسِه حتى يُجدِّدَ له توبةً (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7044 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7044 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی چیز نہیں تھی، اور جب بھی رسول اللہ ﷺ کسی کے متعلق تھوڑا سا بھی جھوٹ محسوس فرماتے تو آپ ﷺ اس شخص کو اپنے دل سے دور کر دیتے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حضور نئی توبہ کر لیتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔