المستدرك على الصحيحين
كتاب الأحكام— احکام کا بیان
ظُهُورُ شَهَادَةِ الزُّورِ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ باب: جھوٹی گواہی کا عام ہونا علاماتِ قیامت میں سے ہے
حدیث نمبر: 7219
حدثنا إبراهيم بن عِصْمة العدل، حدثنا المسيَّب بن زهير، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا محمد بن الفُرات التميمي، قال: سمعتُ مُحاربَ بن دِثار، يقول: أخبرني عبد الله بن عمر، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول: "شاهدُ الزُّورِ لا تزولُ قدماه حتى يُوجِبَ اللهُ لهما النارَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7042 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جھوٹی گواہی دینے والے کے قدم (قیامت کے دن) اپنی جگہ سے ہلنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آگ واجب کر دے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن الفرات التميمي متهم بالكذب.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" ہے کیونکہ محمد بن الفرات التمیمی کذب (جھوٹ) کے ساتھ متہم ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2373) عن سويد بن سعيد، عن محمد بن الفرات، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے (2373) میں سوید بن سعید کے طریق سے محمد بن الفرات سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" ہے کیونکہ محمد بن الفرات التمیمی کذب (جھوٹ) کے ساتھ متہم ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2373) عن سويد بن سعيد، عن محمد بن الفرات، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے (2373) میں سوید بن سعید کے طریق سے محمد بن الفرات سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7219 سے ماخوذ ہے۔