ثم سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "لولا الهجرةُ كنتُ امْرَأً من الأنصار، ولو سَلَكتِ الأنصارُ واديًا أو شِعبًا لكنتُ مع الأنصار" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (1).
حافظ طلحہ بابر
پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا، اور اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار ہی کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا عبد الله بن رَوْح، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن عبد الله بن كعب بن مالك، عن أبيه كعب بن مالك أنه قال: إنَّ آخرَ خُطبة خطبناها رسولُ الله ﷺ، قال: "يا معشرَ المهاجرين، إنَّكم قد أصبحتُم تَزيدُونَ، وإِنَّ الأنصارَ قد انْتَهَوا (2)، وإنَّهم عَيْبتي التي آوِي إليها، فأكرِمُوا مُحسِنَهم، وتجاوَزُوا عن مُسِيئِهم" (3). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6970 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6970 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو آخری خطبہ ہمیں دیا اس میں فرمایا: ”اے گروہِ مہاجرین! تم تو (تعداد میں) بڑھتے جاؤ گے جبکہ انصار (اسی مقدار پر) رک گئے ہیں، اور یہ میرے وہ قریبی ساتھی اور رازدار (عیبتہ) ہیں جن کے پاس میں پناہ لیتا ہوں، پس تم ان کے نیکوکاروں کی عزت کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرنا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا أبو الوليد الطيالسي، حدَّثنا عبدُ الرحمن بن سليمان بن الغَسِيل، حدَّثنا عِكْرمة، عن ابن عبّاس قال: خرجَ النبيُّ ﷺ في مرضه وقد عَصَبَ رأسَه بخِرقةٍ، فقال: "إنَّ الناسَ يَكثُرونَ ويَقِلُّ الأنصارُ، حتى يكونوا في الناس مثلَ المِلْحِ في الطعام، فمن وَلِيَ منكم عملًا، فليَقبَلْ مِن مُحسِنِهم ويتجاوَزْ عن مُسِيئِهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6971 - ذا في البخاري
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6971 - ذا في البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی علالت کے دوران اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ ﷺ نے اپنے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ تو بڑھتے جائیں گے مگر انصار کم ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ وہ لوگوں میں ایسے ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے، پس تم میں سے جسے بھی کسی کام کا ذمہ دار بنایا جائے، وہ ان کے نیکوکاروں کی نیکی قبول کرے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔