حدیث نمبر: 7147
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا أبو الوليد الطيالسي، حدَّثنا عبدُ الرحمن بن سليمان بن الغَسِيل، حدَّثنا عِكْرمة، عن ابن عبّاس قال: خرجَ النبيُّ ﷺ في مرضه وقد عَصَبَ رأسَه بخِرقةٍ، فقال: "إنَّ الناسَ يَكثُرونَ ويَقِلُّ الأنصارُ، حتى يكونوا في الناس مثلَ المِلْحِ في الطعام، فمن وَلِيَ منكم عملًا، فليَقبَلْ مِن مُحسِنِهم ويتجاوَزْ عن مُسِيئِهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6971 - ذا في البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی علالت کے دوران اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ ﷺ نے اپنے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ تو بڑھتے جائیں گے مگر انصار کم ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ وہ لوگوں میں ایسے ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے، پس تم میں سے جسے بھی کسی کام کا ذمہ دار بنایا جائے، وہ ان کے نیکوکاروں کی نیکی قبول کرے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7147
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد من أجل عبد الرحمن بن الغسيل.» [ترقيم الرساله 7147] [ترقيم الشركة 7066] [ترقيم العلميه 6971]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد من أجل عبد الرحمن بن الغسيل.
درجۂ حدیث: "صحیح لغیرہ" ہے اور عبد الرحمن بن غسیل کی وجہ سے یہ سند "جید" ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (2074) و 4/ (2629)، والبخاري (927) و (3628) و (3800) من طرق عن عبد الرحمن بن الغسيل بهذا الإسناد. ورواياتُ البخاري أو في من رواية الحاكم، ورواية أحمد الأولى مختصرة بلفظ: خَطبَ الناس، وعليه عِصابة دَسِمة.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد نے 3/ (2074) اور 4/ (2629) میں، اور امام بخاری نے (927)، (3628) اور (3800) میں عبدالرحمن بن الغسیل (عبدالرحمن بن سلیمان بن غسیل) کے طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: امام بخاری کی روایات حاکم کی روایت سے زیادہ کامل اور وافر ہیں، جبکہ امام احمد کی پہلی روایت مختصر ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ "نبی ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور آپ ﷺ کے سر مبارک پر سیاہ یا تیل والی پٹی (عصابة دسمة) بندھی ہوئی تھی"۔
واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
نوٹ / توضیح: امام حاکم کا اس حدیث کو مستدرک میں لانا ان کا "ذہول" (بھول/چوک) ہے کیونکہ یہ بخاری و مسلم کے معیار پر پہلے ہی ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7147 سے ماخوذ ہے۔