أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدَّثنا قَبيصة بن عُقبة، حدَّثنا سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن إسماعيل بن عُبيد بن رِفاعة بن رافع الزُّرَقي، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ رسول الله ﷺ قال لعمر بن الخطاب: "يا عمرُ، اجمَعْ لي قومَك" فجمعهم، ثم دخلَ عليه، فقال: يا رسولَ الله قد جمعتُهم، فيدخلُون عليك أم تخرُجُ إليهم؟ فقال: "بل أخرُجُ إليهم"، فسمعَتْ بذلك المهاجرون والأنصارُ، فقالوا: لقد جاء في قريش وحيٌ، فحَضَرَ الناظرُ والمستمعُ ما يُقال لهم، فقامَ بينَ أظهُرِهم فقال: "هل فيكم غيرُكم؟ " قالوا: نعم، فينا حلفاؤُنا وأبناءُ أخواتِنا ومَوالينا [فقال رسولُ الله ﷺ: "حلفاؤُنا منَّا، وبنو أَخواتنا منَّا، ومَوالينا] (2) منَّا" فقال: "أنتُم تسمعونَ: أوليائي منكم المُتَّقون، فإنْ كنتُم أولئكَ فذلك، وإلَّا فأبصرُوا ثم أبصِرُوا، لا يَأْتِيَنَّ النَّاسُ بالأعمالِ وتأتونَ بالأثقالِ فيُعرَضَ عنكم"، ثم نادَى فرفعَ صوتَه فقال: "إنَّ قريشًا أهلُ أمانةٍ، مَن بَغَاهِمُ العواثِرَ كبَّه الله لمَنْخِره" قالها ثلاثًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6952 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6952 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبید بن رفاعہ بن رافع الزرقی اپنے والد اور وہ اپنے دادا (رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عمر! میرے پاس اپنی قوم (قریش) کو جمع کرو“، تو انہوں نے انہیں جمع کر دیا، پھر وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے انہیں جمع کر دیا ہے، وہ آپ کے پاس اندر حاضر ہوں یا آپ ان کے پاس باہر تشریف لائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ میں ان کے پاس باہر نکلوں گا“، جب مہاجرین اور انصار نے یہ سنا تو انہوں نے کہا: یقیناً قریش کے بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہے، چنانچہ دیکھنے اور سننے والے وہاں حاضر ہو گئے تاکہ وہ سنیں کہ انہیں کیا کہا جا رہا ہے، پھر آپ ﷺ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے علاوہ بھی کوئی اور تمہارے ساتھ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، ہمارے درمیان ہمارے حلیف، ہمارے بھانجے اور ہمارے آزاد کردہ غلام (موالی) موجود ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے حلیف ہم میں سے ہی ہیں، ہمارے بھانجے ہم میں سے ہی ہیں اور ہمارے موالی ہم میں سے ہی ہیں“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سنو! تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو پرہیزگار ہیں، پس اگر تم وہی ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ تم خود کو دیکھو اور خوب اچھی طرح دیکھ لو، ایسا نہ ہو کہ لوگ (قیامت کے دن) اعمال لے کر آئیں اور تم بوجھ (گناہ) لے کر آؤ اور تم سے منہ پھیر لیا جائے“، پھر آپ ﷺ نے بلند آواز سے پکار کر تین مرتبہ فرمایا: ”بے شک قریش امانت دار لوگ ہیں، جو کوئی ان کی لغزشوں کا خواہاں ہوگا (یا انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا) اللہ اسے ناک کے بل اوندھا گرا دے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدَّثنا أبو الرَّبيع الزَّهْراني، حدَّثنا حماد بن واقِد الصفَّار، حدَّثنا محمد بن ذَكْوان خالُ ولدِ حماد بن زيد، عن محمد بن المُنكِدر، عن عبد الله بن عمر قال: إِنَّا لَبِفِناءِ رسولِ الله ﷺ إذا مرَّت امرأةٌ، فقال رجلٌ من القوم: هذه ابنهُ محمد، فقال أبو سفيان: إنَّ مَثَلَ محمدٍ في بني هاشم مَثَلُ الرَّيحانة في وَسَط النَّتْن (1)، فانطلقتِ المرأة فأخبرت النبيَّ ﷺ، فخرجَ النبيُّ ﷺ يُعرَف الغضبُ في وجهه، فقال: "ما بالُ أقوالٍ تَبلُغني عن أقوام، إنَّ الله ﵎ خلقَ السماواتِ [سبعًا] (2) فاختار العُليا منها فأسكَنَها مَن شاءَ من خلقِه، ثم خلَقَ الخَلْقَ، فاختارَ (3) بني آدمَ، واختار من بني آدمَ العربَ، واختار من العربِ مُضَرَ، واختارٍ من مُضَرَ قريشًا، واختار من قُريشٍ بني هاشمٍ، واختارني من بني هاشم، فأنا من خِيارٍ إلى خِيار، فمن أحبَّ العربَ فبحُبِّي أحبَّهم، ومن أبغضَ العربَ فببُغْضي أبغضَهم" (4). وقد قيل في هذا الإسناد: عن محمد بن ذَكْوان، عن عمرو بن دينار، عن عبد الله بن عمر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے صحن میں موجود تھے کہ ایک خاتون وہاں سے گزریں، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: یہ محمد (ﷺ) کی صاحبزادی ہیں، تو ابوسفیان نے کہا: بنو ہاشم میں محمد کی مثال ایسی ہے جیسے «النَّتْن» کے درمیان ایک خوشبودار پھول۔ وہ خاتون چلی گئیں اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس بات کی خبر دے دی، تب نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے غصہ عیاں تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے جن کی باتیں مجھ تک پہنچ رہی ہیں؟ بے شک اللہ عزوجل نے سات آسمان پیدا فرمائے اور ان میں سے بلند ترین کو منتخب کر کے اس میں اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا بسایا، پھر اس نے مخلوق پیدا کی تو بنی آدم کو منتخب فرمایا، اور بنی آدم میں سے عرب کو چنا، اور عرب میں سے قبیلہ مضر کو منتخب کیا، اور مضر میں سے قریش کو چنا، اور قریش میں سے بنو ہاشم کا انتخاب فرمایا، اور بنو ہاشم میں سے مجھے چن لیا، پس میں بہترین میں سے بھی بہترین ہوں، لہٰذا جس نے عرب سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی، اور جس نے عرب سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض کی بنا پر ان سے بغض رکھا۔“
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الحسين بن الفضل البَجَلي ومحمد بن أحمد بن أنس القرشي، قالا: حدَّثنا عبد الله بن بكر السَّهْمي، حدَّثنا يزيد بن عَوَانة، عن محمد بن ذَكْوان؛ قال عبد الله بن بكر: ولا أحسبُ محمدًا إِلَّا قد حدَّثَنيه عن عمرو بن دينار، عن عبد الله بن عمر قال: بَيْنا نحن جُلوسٌ بفِناءِ رسول الله ﷺ، فذكرَ الحديثَ بتمامه نحوَه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: ایک بار ہم رسول اللہ ﷺ کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے، پھر راوی نے پوری حدیث اسی طرح مکمل ذکر کی۔
اس سند کے متعلق یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ محمد بن ذکوان کے واسطے سے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے۔
اس سند کے متعلق یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ محمد بن ذکوان کے واسطے سے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے۔