حدیث نمبر: 7131
حدَّثنا أبو زكريا العَنْبري وأبو بكر بن جعفر المُزكَّي في آخرينَ، حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدَّثنا عُبيد الله بن محمد بن حفص بن عمر بن موسى بن عبيد الله بن مَعمَر التَّيمي، قال: سمعتُ أبي يقول: سمعتُ عمِّي عبيدَ الله (2) بن عمر بن موسى يقول: حدَّثنا رَبيعةُ بن أبي عبد الرحمن، عن سعيد بن المسيب، عن عمرو بن عثمان بن عفان قال: قال لي أَبي: يا بُنيَّ، إن وَلِيتَ من أمر الناس شيئًا، فأكرِمْ قريشًا، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "من أهانَ قريشًا أهانَه الله ﷿" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6955 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمرو بن عثمان بن عفان اپنے والد (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے! اگر تمہیں لوگوں کے کسی معاملے کا والی و ذمہ دار بنایا جائے تو قریش کی تکریم و عزت کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے قریش کی اہانت (تذلیل) کی، اللہ عزوجل اسے رسوا کر دے گا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7131
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7131] [ترقيم الشركة 7050] [ترقيم العلميه 6955]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) أقحم في النسخ الخطية هنا: ابن حفص.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں غلطی سے "ابن حفص" کے الفاظ داخل کر دیے گئے ہیں (جو کہ اصل متن کا حصہ نہیں ہونے چاہئیں تھے)۔
(3) محتمل للتحسين لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن حفص والد عبيد الله ترجمه البخاري 1/ 65، وابن أبي حاتم 7/ 236، وسكتا عنه، ولم يذكرا راويًا عنه غير ولده عبيد الله، وذكره ابن حبان في "ثقاته"، وعمُّه عبيد الله بن عمر بن موسى ترجمه أيضًا البخاري 5/ 395، وابن أبي حاتم 5/ 327، وسكتا عنه ولم يُذكر راوٍ عنه غير ابن أخيه، وذكره ابن حبان في "ثقاته"، وقال العقيلي في "ضعفائه" (1075): لا يتابع على حديثه، ثم روى له هذا الحديثَ، وليَّنه الذهبيُّ في "ميزانه" 3/ 14.
درجۂ حدیث: یہ روایت "تحسین لغیرہ" (دیگر شواہد کی بنا پر حسن درجے تک پہنچنے) کا احتمال رکھتی ہے، اگرچہ یہ سند بذاتِ خود ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن حفص (عبید اللہ کے والد) کا تذکرہ امام بخاری اور ابن ابی حاتم نے کیا مگر ان پر خاموشی اختیار کی اور ان کے بیٹے کے سوا کوئی راوی ذکر نہیں کیا۔ ان کے چچا عبید اللہ بن عمر بن موسیٰ کے بارے میں بھی یہی صورتحال ہے۔ عقیلی نے کہا کہ ان کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی اور علامہ ذہبی نے "المیزان" میں انہیں "لین" (کمزور) قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 1/ (460)، وابن حبان (6269) من طريق إسحاق بن إسماعيل الطالقاني، كلاهما (أحمد والطالقاني) عن عبيد الله بن محمد بن حفص، بهذا الإسناد. وذكر في رواية أحمد قصة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 1/ (460) اور امام ابن حبان (6269) نے اسحاق بن اسماعیل طالقانی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں عبید اللہ بن محمد بن حفص کی اسی سند سے روایت کرتے ہیں، اور امام احمد کی روایت میں ایک قصہ بھی مذکور ہے۔
وحسَّن العراقيُّ حديث عثمان في "محجة القرب" ص 208.
درجۂ حدیث: علامہ عراقی نے "محجۃ القرب" ص 208 میں حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کی اس حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے۔
ويشهد له حديث سعد بن أبي وقاص التالي عند المصنف.
متابعات و شواہد: حضرت سعد بن ابی وقاص کی اگلی حدیث (جو مصنف کے ہاں آ رہی ہے) اس کے لیے بطورِ شاہد موجود ہے۔
وحديث أنس عند ابن أبي عاصم في "السنة" (1506)، والبزار في "مسنده" (7199)، وابن الأعرابي في "معجمه" (1120)، والطبراني في "الكبير" (753)، و "الأوسط" (5924)، وابن عدي في "الكامل" 6/ 214، وكلا الحديثين فيه ضعف، لكن هذه الثلاثة أحاديث يشدُّ بعضها بعضًا.
متابعات و شواہد: حضرت انس کی روایت بھی ابن ابی عاصم اور بزار وغیرہ کے ہاں موجود ہے۔
اہم نکتہ: اگرچہ ان روایات میں انفرادی طور پر ضعف ہے، لیکن یہ تینوں احادیث ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں (جس سے یہ قابلِ قبول ہو جاتی ہیں)۔
وفي الباب أيضًا عن ابن عبّاس عند تَمَّام في "مسند المقلين" (9) و (10)، وأبي نعيم في "أخبار أصبهان" 2/ 109، وأبي طاهر السلفي في الرابع عشر من "المشيخة البغدادية" (1). وإسناده واهٍ، فيه عبد الرحمن بن مسلم المشهور بأبي مسلم الخراساني، قال الذهبي في "الميزان" 5/ 590: ليس بأهلٍ أن يُحمل عنه شيءٌ، هو شرٌّ من الحجاج وأسفكُ للدماء.
فنی نکتہ / علّت: اس باب میں حضرت ابن عباس سے بھی روایت ہے، مگر اس کی سند "واہی" (انتہائی کمزور) ہے۔ اس میں عبد الرحمن بن مسلم (مشہور ابو مسلم خراسانی) ہے، جس کے بارے میں علامہ ذہبی فرماتے ہیں: "وہ اس قابل نہیں کہ اس سے کچھ بھی روایت کیا جائے، وہ حجاج بن یوسف سے بھی بدتر اور بہت زیادہ خون بہانے والا تھا"۔
وعن عمرو بن العاص عند ابن عساكر في "تاريخه" 8/ 306، وإسناده واهٍ.
حوالہ / مصدر: حضرت عمرو بن العاص سے بھی ابن عساکر نے روایت کی ہے، مگر اس کی سند بھی "واہی" (انتہائی کمزور) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7131 سے ماخوذ ہے۔