کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بالغ عمر میں رضاعت کا حکم خاص طور پر سالم کے ساتھ مخصوص تھا
حدَّثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا بَحْر بن نَصْر، حدَّثنا عبد الله بن وهب، حدَّثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، عن سهلةَ امرأة أبي حذيفة: أنها ذَكَرت لرسولِ الله ﷺ سالمًا مولى أبي حذيفةَ ودخولَه عليها، فزعمت: أنَّ رسولَ الله ﷺ أمرَها أن تُرضِعَه، فأرضعته وهو رجلٌ بعدما شَهِدَ بدرًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6902 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6902 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا (زوجہ ابوحذیفہ) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم کے اپنے پاس آنے جانے کا تذکرہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ انہیں اپنا دودھ پلا دیں، چنانچہ انہوں نے سالم کو دودھ پلایا جبکہ وہ غزوہ بدر میں شرکت کے بعد ایک مرد بن چکے تھے۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الربيع بن سليمان، حدَّثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد وربيعةَ، عن القاسم، عن عائشة قالت: أمر النبيُّ ﷺ سهلةَ امرأةَ أبي حذيفة أن تُرضِعَ سالمًا مولى أبي حذيفة حتى تذهبَ غَيْرةُ أبي حذيفة، فأرضعته وهو رجلٌ. قال ربيعةُ: وكان رخصةً لسالم (1). ذكرُ أمِّ حَبيبَة، واسمُها حَمْنةُ بنت جَحْش ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6903 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6903 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا (زوجہ ابوحذیفہ) کو حکم دیا کہ وہ ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم کو دودھ پلا دیں (اور اس کو اپنا رضاعی بیٹا بنا لو) تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت (اور ذہنی پریشانی) دور ہو جائے، چنانچہ انہوں نے انہیں دودھ پلایا جبکہ وہ مرد تھے۔ ربیعہ کہتے ہیں: یہ سالم کے لیے ایک خاص رخصت تھی۔
ام حبیبہ، جن کا نام حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ہے، کا تذکرہ۔
ام حبیبہ، جن کا نام حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ہے، کا تذکرہ۔