کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ اُمِّ عبداللہ لیلیٰ بنت ابی حثمہ قرشیہ عدویہ رضی اللہ عنہا کا بیان
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق قال: وممّن هاجر إلى الحبشة عامرُ بن رَبيعة، ومعه امرأتُه ليلى بنتُ أبي حَثْمَة بن غانم بن عوف بن عُبيد بن عُوَيج بن عَدِيّ بن كعب.
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق سے مروی ہے کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ لیلیٰ بنت ابی حثمہ بن غانم رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔
حدَّثَناه أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: فحدثني مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال: ما قَدِمَت [ظَعينةٌ] (1) المدينةَ من المهاجراتِ أولَ من ليلى بنت أبي حَثْمة مع أَبي، وهو زوجُها عامر بن ربيعة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ مہاجر خواتین میں سب سے پہلے جو اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ منورہ تشریف لائیں وہ سیدہ لیلیٰ بنت ابی حثمہ رضی اللہ عنہا تھیں، ان کے ہمراہ ان کے شوہر عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ تھے۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، حدثني عبد الرحمن بن الحارث بن عبد الله بن عيّاش، عن عبد العزيز بن عبد الله بن عامر بن رَبيعة، عن أبيه، عن أمِّه أمِّ عبد الله بنت أبي حَثْمةَ قالت: والله إنا لَنرحلُ إلى أرض الحَبشة، وقد ذهبَ عامرٌ في بعض حاجتِنا، إذ أقبل عمرُ بن الخطاب حتى وَقَفَ عليَّ وهو على شِركِه، وكنَّا نلقَى منه البلاءَ وشدةً (2) علينا، فقال: إنه لَلانطِلاقُ يا أمَّ عبد الله؟ فقلتُ: نعم، والله لنَحْرُجِنَّ في أرض الله، آذيتُمونا وقهرتُمونا، حتى يجعلَ الله لنا مَخرَجًا، فقال: صَحِبَكم الله، ورأيت له رِقَّةً لم أكن أراها، ثم انصرف وقد أحزنَه فيما أُرى خروجُنا، قال: فجاء عامرٌ من حاجتِه تلك، فقلتُ: يا أبا عبد الله، لو رأيتَ عمر آنفًا ورِقَّتَه وحُزْنَه علينا، قال: فيُطْمَعُ في إسلامه؟ قلتُ: نعم، قال: لا يُسلِمُ الذي رأيتِ حتى يُسلِمَ حِمارُ (1) الخطَّاب، قال يائسًا منه ممّا كان يَرَى من غِلظِته وقَسوتِه على الإسلام (2). ذكرُ فاطمةَ بنتِ الخطَّاب بن نُفَيل أخت عُمَرَ ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6895 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6895 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام عبداللہ بنت ابی حثمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم سرزمینِ حبشہ کی طرف روانگی کے لیے کجاوے باندھ رہے تھے اور عامر (میرے شوہر) کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے کہ اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آگئے اور میرے پاس آ کر کھڑے ہو گئے جبکہ وہ ابھی تک مشرک تھے، ہمیں ان کی طرف سے سخت مصائب اور سختی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، انہوں نے پوچھا: اے ام عبداللہ! کیا اب یہاں سے کوچ ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! ہم اللہ کی زمین میں نکل جائیں گے، تم لوگوں نے ہمیں بڑی تکلیفیں دیں اور ہم پر بڑے مظالم ڈھائے، یہاں تک کہ اب اللہ نے ہمارے لیے (نجات کا) کوئی راستہ بنا دیا ہے، (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو، اور میں نے ان کے اندر ایسی نرم دلی دیکھی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، پھر وہ پیٹھ موڑ کر چلے گئے اور میرا گمان ہے کہ ہمارے نکلنے کی خبر نے انہیں غمزدہ کر دیا تھا، انہوں نے بیان کیا کہ پھر عامر اپنے کام سے واپس آئے تو میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! کاش آپ ابھی عمر کی نرم دلی اور ہم پر ان کا غم دیکھتے، عامر نے کہا: کیا تمہیں ان کے اسلام لانے کی کوئی امید ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، عامر نے ان کی (اسلام کے خلاف) شدت اور درشتی کو دیکھتے ہوئے مایوسی سے کہا: وہ شخص اس وقت تک اسلام نہیں لائے گا جب تک خطاب کا گدھا اسلام نہ لے آئے۔
سیدنا عمر کی بہن فاطمہ بنت خطاب بن نفیل رضی اللہ عنہا کا تذکرہ۔
سیدنا عمر کی بہن فاطمہ بنت خطاب بن نفیل رضی اللہ عنہا کا تذکرہ۔