کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نملہ (جلدی بیماری) کے دم کا بیان
حدَّثنا بالحديث على وجهه أبو عمرو محمد بن جعفر بن محمد بن مَطَر الزَّاهد العَدْل إملاءً سنةَ سبعٍ وثلاثين وثلاث مئة، حدَّثنا محمود بن محمد الواسطي، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله أبو إسحاق الهَرَوي، حدثني عثمان بن عمر بن عثمان بن سليمان بن أبي حَثْمةَ القُرشي العَدَوي، حدثني أبي، عن جدِّي عثمان بن سليمان، عن أبيه، عن أُمِّه الشَّفاء بنت عبد الله: أنها كانت تَرقِي برُقًى في الجاهلية، وأنَّها قد كانت بايَعَت رسولَ الله ﷺ بمكة قبلَ الهجرة، فقَدِمَت عليه مُهاجرةً، فقالت: يا رسول الله، إني كنتُ أَرْقي برُقًى في الجاهلية، وقد رأيتُ أن أعرِضَها عليك، فقال: "اعرِضِيها"، فعرضَتْها عليه، وكانت فيها رُقْيةُ النَّمْلة، فقال: "ارقِي بها، وعلِّميها حفصةَ"؛ باسم الله صَلَوَا صُلب جبر، تعوُّذًا (1) من أفواهِها، ولا تضرُّ أحدًا، اللهمَّ اكشفِ البأسَ ربَّ الناس، قالت: تَرقِي بها على عُودِ كُركُم سبعَ مرَّات، وتضعُه مكانًا نظيفًا، ثم تَدلُكُه على حَجَر (1)، وتَطلِيه على النَّملة (2) (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6890 - سئل ابن معين عن عثمان فلم يعرفه
حافظ طلحہ بابر
سیدہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت میں کچھ دم (رقیہ) کیا کرتی تھیں، انہوں نے ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی، پھر وہ مہاجرہ بن کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جاہلیت میں چند دم کیا کرتی تھی اور میرا ارادہ ہے کہ انہیں آپ ﷺ کے سامنے پیش کر دوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں پیش کرو“، چنانچہ انہوں نے وہ کلمات آپ ﷺ کو سنائے جن میں ”نملہ“ (ایک قسم کے جلدی زخموں) کا دم بھی شامل تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے ذریعے دم کیا کرو اور اسے حفصہ (رضی اللہ عنہا) کو بھی سکھا دو“، (وہ کلمات یہ تھے:) «بِسْمِ اللهِ صَلَوَا صُلْبُ جَبْرٍ، تَعَوُّذًا مِنْ أَفْوَاهِهَا، وَلَا تَضُرُّ أَحَدًا، اللهُمَّ اكْشِفِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ» ”اللہ کے نام سے، جبر (نامی شخص) کی پشت کی نمازیں (مراد شفا ہے)، ان (زخموں) کے مونہوں سے پناہ مانگتے ہوئے، اور یہ کسی کو نقصان نہ پہنچائے، اے اللہ! اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما“، سیدہ شفاء رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ وہ اس دم کو ہلدی کی لکڑی پر سات مرتبہ پڑھتی تھیں اور اسے کسی پاک صاف جگہ رکھ دیتی تھیں، پھر اسے پتھر پر رگڑ کر ان زخموں پر لیپ کر دیتی تھیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7064
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره دون ذكر لفظ الرقية
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون ذكر لفظ الرقية، فقد انفرد به عثمان بن عمر الحثمي، قال ابن معين: لا أعرفه، وقال ابن عدي: مجهول.» [ترقيم الرساله 7064] [ترقيم الشركة 6984] [ترقيم العلميه 6890]
أخبرني محمد بن الحسن، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدَّثنا أبو عُبيدٍ قال: قال الأصمعيُّ: النَّمْلة هي قُروحٌ تخرُجُ في الجَنْب وغيره.
حافظ طلحہ بابر
اصمعی کہتے ہیں کہ «النَّمْلَة» سے مراد وہ زخم یا پھنسیاں ہیں جو پسلیوں یا جسم کے دیگر حصوں پر نکل آتی ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7065
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7065] [ترقيم الشركة 6985]
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعراني، حدَّثنا جَدِّي، حدَّثنا إسماعيل بن أبي أوَيس، حدثني سليمان بن بلال، عن موسى بن عُبيدة، عن عبد المجيد بن سهيل الزُّهْري، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن الشِّفاء ابنةِ عبد الله قالت: جئتُ يومًا حتى دخلتُ على النبيِّ ﷺ فسألتُه وشكوتُ إليه، فجعل يعتِذرُ إليَّ، وجعلتُ ألومُه، قالت: ثم حانت الصلاةُ الأولى فدخلتُ بيت ابنتي، وهي عند شُرَحْبيل ابن حَسَنة، فوجدتُ زوجَها في البيت، فجعلتُ ألومُه، وقلت: حضرتِ الصلاةُ وأنت هاهنا؟! فقال: يا عمَّةُ، لا تَلُوميني؛ كان لي ثوبان استعار أحدَهما النبيُّ ﷺ[فقلتُ]: أنا ألومُه وهذا شأنُه! فقال شُرَحبيل: إنما كان في أحدِهما دِرعٌ (4) فَرَقَعناه (5). ذكر أمِّ عبد الله ليلى بنت أبي حَثْمة القُرشية العَدَوية ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6892 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا اور اپنی تنگیِ حالات کی شکایت کی، تو آپ ﷺ میرے سامنے معذرت پیش کرنے لگے اور میں آپ ﷺ پر (محبت و اپنائیت کی بنا پر) تھوڑا گلہ کرنے لگی، انہوں نے بیان کیا کہ پھر ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا تو میں اپنی بیٹی کے گھر چلی گئی جو شرجیل بن حسنہ کے نکاح میں تھیں، میں نے ان کے شوہر کو گھر میں پایا تو میں ان پر بھی گلہ کرنے لگی اور کہا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے اور تم ابھی تک گھر بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: اے خالہ! مجھ پر گلہ نہ کیجیے، میرے پاس صرف دو ہی کپڑے تھے جن میں سے ایک نبی کریم ﷺ نے (پہننے کے لیے) عاریتاً منگوا لیا ہے، (شفاء کہتی ہیں) یہ سن کر میں نے خود سے کہا کہ میں آپ ﷺ پر گلہ کر رہی ہوں جبکہ آپ ﷺ کی (ایثار و فقر کی) یہ حالت ہے کہ آپ کے پاس پہننے کو اپنا کپڑا تک نہیں! شرجیل نے بتایا کہ ان دو کپڑوں میں سے بھی ایک میں پیوند لگا ہوا تھا جسے ہم نے خود جوڑا تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7066
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف من أجل موسى بن عبيدة: وهو الرَّبَذي.» [ترقيم الرساله 7066] [ترقيم الشركة 6986] [ترقيم العلميه 6892]