حدیث نمبر: 7069
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، حدثني عبد الرحمن بن الحارث بن عبد الله بن عيّاش، عن عبد العزيز بن عبد الله بن عامر بن رَبيعة، عن أبيه، عن أمِّه أمِّ عبد الله بنت أبي حَثْمةَ قالت: والله إنا لَنرحلُ إلى أرض الحَبشة، وقد ذهبَ عامرٌ في بعض حاجتِنا، إذ أقبل عمرُ بن الخطاب حتى وَقَفَ عليَّ وهو على شِركِه، وكنَّا نلقَى منه البلاءَ وشدةً (2) علينا، فقال: إنه لَلانطِلاقُ يا أمَّ عبد الله؟ فقلتُ: نعم، والله لنَحْرُجِنَّ في أرض الله، آذيتُمونا وقهرتُمونا، حتى يجعلَ الله لنا مَخرَجًا، فقال: صَحِبَكم الله، ورأيت له رِقَّةً لم أكن أراها، ثم انصرف وقد أحزنَه فيما أُرى خروجُنا، قال: فجاء عامرٌ من حاجتِه تلك، فقلتُ: يا أبا عبد الله، لو رأيتَ عمر آنفًا ورِقَّتَه وحُزْنَه علينا، قال: فيُطْمَعُ في إسلامه؟ قلتُ: نعم، قال: لا يُسلِمُ الذي رأيتِ حتى يُسلِمَ حِمارُ (1) الخطَّاب، قال يائسًا منه ممّا كان يَرَى من غِلظِته وقَسوتِه على الإسلام (2). ذكرُ فاطمةَ بنتِ الخطَّاب بن نُفَيل أخت عُمَرَ ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6895 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدہ ام عبداللہ بنت ابی حثمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم سرزمینِ حبشہ کی طرف روانگی کے لیے کجاوے باندھ رہے تھے اور عامر (میرے شوہر) کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے کہ اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آگئے اور میرے پاس آ کر کھڑے ہو گئے جبکہ وہ ابھی تک مشرک تھے، ہمیں ان کی طرف سے سخت مصائب اور سختی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، انہوں نے پوچھا: اے ام عبداللہ! کیا اب یہاں سے کوچ ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! ہم اللہ کی زمین میں نکل جائیں گے، تم لوگوں نے ہمیں بڑی تکلیفیں دیں اور ہم پر بڑے مظالم ڈھائے، یہاں تک کہ اب اللہ نے ہمارے لیے (نجات کا) کوئی راستہ بنا دیا ہے، (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو، اور میں نے ان کے اندر ایسی نرم دلی دیکھی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، پھر وہ پیٹھ موڑ کر چلے گئے اور میرا گمان ہے کہ ہمارے نکلنے کی خبر نے انہیں غمزدہ کر دیا تھا، انہوں نے بیان کیا کہ پھر عامر اپنے کام سے واپس آئے تو میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! کاش آپ ابھی عمر کی نرم دلی اور ہم پر ان کا غم دیکھتے، عامر نے کہا: کیا تمہیں ان کے اسلام لانے کی کوئی امید ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، عامر نے ان کی (اسلام کے خلاف) شدت اور درشتی کو دیکھتے ہوئے مایوسی سے کہا: وہ شخص اس وقت تک اسلام نہیں لائے گا جب تک خطاب کا گدھا اسلام نہ لے آئے۔
سیدنا عمر کی بہن فاطمہ بنت خطاب بن نفیل رضی اللہ عنہا کا تذکرہ۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7069
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتمل للتحسين
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين، عبد الرحمن بن الحارث مختلف فيه، ضعَّفه علي بن المديني وأحمد والنسائي، ووثقه ابن سعد والعجلي وابن حبان، وقال ابن معين مرة: لا بأس به، ومرة: صالح، وقال أبو حاتم: شيخ. وشيخه عبد العزيز بن عبد الله ترجم البخاري 6/ 12 و 13 وابن أبي حاتم في ...» [ترقيم الرساله 7069] [ترقيم الشركة 6989] [ترقيم العلميه 6895]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده محتمل للتحسين، عبد الرحمن بن الحارث مختلف فيه، ضعَّفه علي بن المديني وأحمد والنسائي، ووثقه ابن سعد والعجلي وابن حبان، وقال ابن معين مرة: لا بأس به، ومرة: صالح، وقال أبو حاتم: شيخ. وشيخه عبد العزيز بن عبد الله ترجم البخاري 6/ 12 و 13 وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 5/ 385 و 386 لاثنين هما واحد، وسكتا عنه، وقد روى عنه اثنان أو ثلاثة، وذكره ابن حبان 7/ 110. وانظر تعليق الحافظ ابن حجر في "لسان الميزان" على ذلك.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ عبدالرحمٰن بن الحارث کے بارے میں اختلاف ہے؛ علی بن المدینی، احمد اور نسائی نے انہیں ضعیف کہا ہے، جبکہ ابن سعد، عجلی اور ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ ابن معین نے ایک بار کہا: "لا بأس بہ" (کوئی حرج نہیں) اور ایک بار کہا: "صالح" ہیں۔ ابو حاتم نے کہا: "شیخ" ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اور ان کے شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ کا ترجمہ بخاری (12/6 و 13) اور ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" (385/5 و 386) میں دو الگ آدمیوں کے طور پر کیا ہے حالانکہ وہ ایک ہی ہیں، اور وہ ان کے بارے میں خاموش رہے ہیں۔ ان سے دو یا تین راویوں نے روایت کی ہے، اور ابن حبان نے انہیں (110/7) میں ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن حجر کا "لسان المیزان" میں اس پر تعلیق ملاحظہ کریں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 221 عن أبي عبد الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" 2/ 221 میں ابو عبد الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن هشام في "السيرة" 1/ 342، وعبد الله بن أحمد في "فضائل الصحابة" (371)، والمحاملي في "أماليه - رواية ابن البيع" (24)، والطبراني في "الكبير" 25/ (47)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (7832)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 44/ 23 من طريق محمد بن إسحاق وأبهم في رواية عبد الله بن أحمد عبدُ العزيز بن عبد الله، وجُعل مكانه: عمَّن لا يُتهم.
حوالہ / مصدر: اور اسے ابن ہشام نے "السیرۃ" 1/ 342 میں، عبداللہ بن احمد نے "فضائل الصحابہ" (371)، محاملی نے "أمالي" (روایت ابن البیع - 24) میں، طبرانی نے "الکبیر" (47/25)، ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (7832)، اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 44/ 23 میں محمد بن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور عبداللہ بن احمد کی روایت میں عبدالعزیز بن عبداللہ کو "مبہم" رکھا گیا ہے اور ان کی جگہ "عَمَّنْ لَا يُتَّهَمُ" (اس شخص سے جو متہم نہیں ہے) کے الفاظ لائے گئے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7069 سے ماخوذ ہے۔