کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے بیٹے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات پر ارشاد
أخبرنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهران الأصبهاني، حدثنا عبيد الله (3) بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عطاء، عن جابر، عن عبد الرحمن بن عوف قال: أخذ النَّبيّ ﷺ بيدي، فانطلقتُ معه إلى إبراهيم ابنه وهو يَجُودُ بنفسه، فأخذه النَّبيّ ﷺ في حجره حتى خرجت نفسه، قال: فوضعَه وبَكَى، قال فقلتُ: تبكي يا رسول الله وأنت تنهى عن البكاء؟ قال: "إني لم أنه عن البكاء، ولكنِّي نَهَيتُ عن صوتين أحمقين فاجرين، صوتٍ عند نعمة، لهو ولعب ومَزامير الشيطان، وصوتٍ عند مُصيبة، لطم وجوهٍ وشقِّ جُيوب، وهذه رحمةٌ، ومَن لا يَرحَمْ لا يُرحَمْ، ولولا أنه وعد صادق وقول حق أن يلحق أولانا بأخرانا، لحَزِنَّا عليك حُزنًا أشدَّ من هذا، وإنا بك يا إبراهيم لمحزونون، تبكي العينُ ويَحزَنُ القلب، ولا نقول ما يُسخط الربَّ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6825 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6825 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں آپ ﷺ کے ہمراہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کے پاس گیا جو اس وقت جاں بلب تھے، نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنی گود میں لیا یہاں تک کہ ان کی روح پرواز کر گئی، آپ ﷺ نے انہیں رکھا اور رونے لگے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ رو رہے ہیں جبکہ آپ نے رونے سے منع فرمایا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے رونے سے منع نہیں کیا بلکہ میں نے دو بیوقوفانہ اور گناہ آلود آوازوں سے منع کیا ہے، ایک نعمت کے وقت لہو و لعب اور شیطانی باجوں کی آواز، اور دوسری مصیبت کے وقت چہرے پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی آواز، اور یہ (آنسو) تو رحمت ہے، اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا، اگر یہ سچا وعدہ اور برحق بات نہ ہوتی کہ ہمارے پہلے جانے والے بعد والوں سے جا ملیں گے، تو ہم تم پر اس سے بھی زیادہ غم کرتے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں، آنکھ روتی ہے اور دل غمزدہ ہے، مگر ہم زبان سے وہی کہیں گے جس سے رب راضی ہو۔“
أخبرنا أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مهران، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن مُصفَّى، حدثنا بقيَّة، عن محمد بن زياد، عن أبي أمامة: أنَّ رسول الله ﷺ مَشَى خلف جنازة ابنه إبراهيم حافيًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6826 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6826 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صاحبزادے ابراہیم کے جنازے کے پیچھے ننگے پاؤں چلے۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحربي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزبيري قال: بلغني أنَّ مارية أم ولد النَّبيّ ﷺ تُوفِّيَت بالمدينة سنة سبع عشرة، وصلى عليها أمير المؤمنين عمر بن الخطاب، ودفنت بالبقيع. ذكرُ سَلْمى مولاةِ رسولِ اللهِ ﷺ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ام ولد سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کی وفات مدینہ منورہ میں سنہ 17 ہجری میں ہوئی، امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور وہ بقیع میں دفن کی گئیں۔